Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 36:72 Prev 36:70


Arabic

أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّا خَلَقۡنَا لَهُم مِّمَّا عَمِلَتۡ أَيۡدِينَآ أَنۡعَٰمٗا فَهُمۡ لَهَا مَٰلِكُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے اِن کے لیے مویشی پیدا کیے اور اب یہ ان کے مالک ہیں


English (Sahih International)

Do they not see that We have created for them from what Our hands have made, grazing livestock, and [then] they are their owners


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 71 { اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَہُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَآ اَنْعَامًا فَہُمْ لَہَا مٰـلِکُوْنَ } ”کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ہم نے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لیے چوپائے پیدا کردیے ‘ جن کے اب یہ مالک بنے پھرتے ہیں۔“ یہ میری بھینس ہے ‘ میں اس کا مالک ہوں ! یہ اس کی گائے ہے ! یہ فلاں کا گھوڑا ہے ! بکریوں کے ریوڑ کا مالک فلاں ہے ! گویا یہ لوگ بڑے فخر سے ان مویشیوں اور چوپایوں پر اپنا حق ملکیت جتاتے ہیں ‘ لیکن یہ حقیقت وہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ انہیں تخلیق تو اللہ نے ہی کیا ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 71 to 76.

مویشی جانور ایک قسم کے زندہ علامت ہیں جو بتاتے ہیں کہ مادی دنیا کو اس کے بنانے والے نے اس طرح بنایا ہے کہ انسان اس کو مسخر کرکے اس کو استعمال کرسکے۔ مادی دنیا کی اسی صلاحیت کے اوپر انسانی تہذیب کی پوری عمارت قائم ہے۔ اگر گھوڑے اور بیل میں بھی وہی وحشیانہ مزاج ہو جو ریچھ اور بھیڑئے میں ہوتاہے یا لوہا اور پٹرول اسی طرح انسان کے قابوسے باہرہوں جس طرح زمین کے اندر کا آتش فشانی مادہ انسان کے قابو سے باہر ہے تو تہذیبِ انسانی کا ارتقاء ناممکن ہوجائے۔

جس خالق نے یہ عظیم احسانات کيے ہیں، انسان کو چاہيے تھا کہ وہ اسی کاشکر کرے اور اسی کا عبادت گزار بنے۔ مگر وہ دوسروں کو اپنامعبود بناتا ہے،اور جب اس کو نصیحت کی جائے تو وہ اس پر دھیان نہیں دیتا۔ یہ بلاشبہ سب سے بڑی سرکشی ہے جس کے انجام سے بچنا کسی کےلیے ممکن نہیں۔


Connections

  • Previous: 36_70
  • Next: 36_72
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes