Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَءَايَةٞ لَّهُمۡ أَنَّا حَمَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُمۡ فِي ٱلۡفُلۡكِ ٱلۡمَشۡحُونِ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اِن کے لیے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ ہم نے اِن کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کر دیا
English (Sahih International)
And a sign for them is that We carried their forefathers in a laden ship
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 41 { وَاٰیَۃٌ لَّہُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَہُمْ فِی الْْفُلْکِ الْمَشْحُوْنِ } ”اور ان کے لیے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کردیا۔“ اس بارے میں عام رائے یہی ہے کہ اس سے خاص طور پر حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی مراد ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 41 to 44.
ہماری دنیا میں خشکی بھی ہے اور سمندر بھی۔ اور ہمارے اوپر وسیع فضا بھی۔ خدا نے اس دنیا میں ایسے امکانات رکھ دئے ہیں کہ آدمی تینوں میں سے کسی حصہ میں بھی سفر سے عاجز نہ ہو۔ وہ خشکی میں اور پانی اور فضا میں یکساں طورپر سفر کرسکے۔
یہ تمام سفر سراسر خدا کے انتظام کے تحت ممکن ہوتے ہیں۔ یہ انسان کےلیے اتنی بڑی رحمت ہیں کہ انسان اگر ان پر غور کرے تو وہ بالکل اپنے آپ کو خدا کے آگے ڈال دے، اور کبھی سرکشی کا طریقہ اختیار نہ کرے۔