Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 36:34 Prev 36:32


Arabic

وَءَايَةٞ لَّهُمُ ٱلۡأَرۡضُ ٱلۡمَيۡتَةُ أَحۡيَيۡنَٰهَا وَأَخۡرَجۡنَا مِنۡهَا حَبّٗا فَمِنۡهُ يَأۡكُلُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اِن لوگوں کے لئے بے جان زمین ایک نشانی ہے ہم نے اس کو زندگی بخشی اور اس سے غلہ نکالا جسے یہ کھاتے ہیں


English (Sahih International)

And a sign for them is the dead earth. We have brought it to life and brought forth from it grain, and from it they eat


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 33 { وَاٰیَۃٌ لَّـہُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَۃُ } ”اور ان کے لیے ایک نشانی ُ مردہ زمین ہے“ { اَحْیَیْنٰہَا وَاَخْرَجْنَا مِنْہَا حَبًّا فَمِنْہُ یَاْکُلُوْنَ } ”ہم نے اسے زندہ کیا اور اس سے اناج نکالا ‘ تو اس میں سے وہ کھاتے ہیں۔“ بارش برستے ہی بظاہر مردہ اور بنجر زمین میں زندگی کے آثار نمودار ہوجاتے ہیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے طرح طرح کا سبزہ ‘ فصلیں اور پودے اگ آتے ہیں جو انسانوں اور جانوروں کی خوراک کا ذریعہ بنتے ہیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 33 to 36.

زمین کی سطح پر زرخیز مٹی کا جمع ہونا، اس کےلیے پانی اور دھوپ اور ہوا کا انتظام، پھر بیج کے اندر نشوونما کی صلاحیت، اس طرح کے بے شمار معلوم اور غیر معلوم اسباب ہیں جو بالآخر غلہ اور پھل اور سبزی کی شکل اختیار کرکے انسان کی خوراک بنتے ہیں۔ یہ پورا نظام انسان کے بنائے بغیر بنا ہے۔ اس کو وجود میں لانا اور اس کو قائم رکھنا سراسر خدا کی رحمت سے ہوتا ہے۔ اگر انسان اس پر سوچے تو وہ شکر کے جذبہ سے بھر جائے ۔

پھر اسی نظام میں ایک عظیم تر حقیقت کی نشانی بھی موجود ہے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ دنیا کی تمام چیزوں میں جوڑے کا اصول کارفرما ہے۔ پھر جب کائنات کا نظام اس اصول پر قائم ہے کہ یہاں تمام چیزیں اپنے جوڑے کے ساتھ مل کر اپنی تکمیل کریں تو موجودہ دنیا کا بھی ایک جوڑا ہونا چاہيے جس کے ملنے سے اس کی تکمیل ہوتی ہو۔ اس طرح موجودہ دنیا میں جوڑے کانظام آخرت کے امکان کو ثابت کردیتاہے۔


Connections

  • Previous: 36_32
  • Next: 36_34
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes