Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 36:14 Prev 36:12


Arabic

وَٱضۡرِبۡ لَهُم مَّثَلًا أَصۡحَٰبَ ٱلۡقَرۡيَةِ إِذۡ جَآءَهَا ٱلۡمُرۡسَلُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اِنہیں مثال کے طور پر اُس بستی والوں کا قصہ سناؤ جبکہ اُس میں رسول آئے تھے


English (Sahih International)

And present to them an example: the people of the city, when the messengers came to it


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 13 { وَاضْرِبْ لَہُمْ مَّثَلاً اَصْحٰبَ الْقَرْیَۃِ 7 اِذْ جَآئَ ہَا الْمُرْسَلُوْنَ } ”ان کے لیے آپ ﷺ اس بستی والوں کی مثال بیان کیجیے ‘ جب کہ ان کے پاس رسول آئے۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 13 to 19.

بستی سے مراد غالباً مصر کی بستی ہے۔ یہاں بیک وقت دو پیغمبر (حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ) لوگوں کو خبر دار کرنے کےلیے بھیجے گئے۔ مگر انھوں نے انکار کیا۔ پھر ان کی اپنی قوم سے تیسرا شخص اٹھااور اس نے دونوں رسولوں کی تائید کی۔ اس تیسرے شخص سے مراد غالباً وہی رجل مومن ہے جس کا ذکر قرآن میں سورہ مومن میں تفصیل سے آیا ہے۔

ہر زمانہ میں آدمی کےلیے سب سے زیادہ تلخ چیز یہ رہی ہے کہ اس کو ایسی نصیحت کی جائے جو اس کے مزاج کے خلاف ہو۔ ایسی بات سن کر آدمی فوراً بگڑ جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ معتدل ذہن کے ساتھ اس پر غور نہیں کرپاتا۔ وہ اس کو دلیل کے اعتبار سے نہیں جانچتا بلکہ ضد اور نفرت کے تحت اس کے خلاف غیر متعلق باتیں کہتا رہتا ہے۔ کسی بات کو دلیل سے جانچنا حد کے اندر رہنا ہے اور بے دلیل مخالفت کرنا حد سے باہر نکل جانا۔


Connections

  • Previous: 36_12
  • Next: 36_14
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes