Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَلَوۡ يُؤَاخِذُ ٱللَّهُ ٱلنَّاسَ بِمَا كَسَبُواْ مَا تَرَكَ عَلَىٰ ظَهۡرِهَا مِن دَآبَّةٖ وَلَٰكِن يُؤَخِّرُهُمۡ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗىۖ فَإِذَا جَآءَ أَجَلُهُمۡ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِعِبَادِهِۦ بَصِيرَۢا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اگر کہیں وہ لوگوں کو اُن کے کیے کرتوتوں پر پکڑتا تو زمین پر کسی متنفس کو جیتا نہ چھوڑتا مگر وہ انہیں ایک مقرر وقت تک کے لیے مہلت دے رہا ہے پھر جب ان کا وقت آن پورا ہوگا تو اللہ اپنے بندوں کو دیکھ لے گا
English (Sahih International)
And if Allah were to impose blame on the people for what they have earned, He would not leave upon the earth any creature. But He defers them for a specified term. And when their time comes, then indeed Allah has ever been, of His servants, Seeing
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 45{ وَلَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰہُ النَّاسَ بِمَا کَسَبُوْا مَا تَرَکَ عَلٰی ظَہْرِہَا مِنْ دَآبَّۃٍ } ”اور اگر اللہ فوری گرفت کرتا لوگوں کی ان کے اعمال کے سبب تو اس زمین کی پشت پر کوئی جاندار بھی باقی نہ چھوڑتا“ { وَّلٰکِنْ یُّؤَخِّرُہُمْ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی } ”لیکن وہ موخر کرتا رہتا ہے ان کو ایک وقت مقرر تک۔“ اللہ تعالیٰ کا قاعدہ یہی ہے کہ وہ کسی مجرم یا نافرمان کی فوری طور پر پکڑ کرنے کے بجائے اسے ایک طے شدہ وقت تک مہلت دیتا رہتا ہے۔ { فَاِذَا جَآئَ اَجَلُہُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِعِبَادِہٖ بَصِیْرًا } ”پھر جب ان کا وقت ِمعین ّآ جائے گا تو اللہ یقینا اپنے بندوں کے حالات کو خود دیکھنے والا ہے۔“ اللہ کی مشیت کے مطابق طے شدہ وقت پر جب بھی کسی مجرم کی گرفت ہوگی تو اسے اپنے ایک ایک جرم کا حساب دینا پڑے گا ‘ کیونکہ ان کا کوئی معاملہ بھی اللہ کی نگاہ سے پوشیدہ نہیں ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
انسان کو دنیا میں عمل کی آزادی دی گئی تھی۔مگر اس نے اس کا غلط استعمال کیا۔ یہ غلطیاں اتنی زیادہ ہیں کہ اگر انسان کو اس کی غلط کاریوں پر فوراً پکڑا جانے لگے تو زمین سے انسانی نسل کا خاتمہ ہوجائے۔ مگر انسان کی آزادی برائے امتحان ہے،اور اس امتحان کی ایک مدت مقرر ہے۔ ایک فرد کی مدت موت تک ہے اور مجموعی طورپر پوری انسانیت کی مدت قیامت تک۔ اسی بنا پر انسان کی نسل زمین پر باقی ہے۔ تاہم جس طرح یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ مہلت کی مقرر مدت سے پہلے کسی کو نہیں پکڑتا۔ اسی طرح یہ بھی ایک سنگین حقیقت ہے کہ مہلت کی مقررمدت گزر جانے کے بعد وہ ضرور انسان کو پکڑے گا۔ کوئی شخص اس کی پکڑ سے بچنے والا نہیں۔
Connections
- Previous: 35_44
- Next: (End of Surah)
- Thematic: (add links here)