Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَأَقۡسَمُواْ بِٱللَّهِ جَهۡدَ أَيۡمَٰنِهِمۡ لَئِن جَآءَهُمۡ نَذِيرٞ لَّيَكُونُنَّ أَهۡدَىٰ مِنۡ إِحۡدَى ٱلۡأُمَمِۖ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ نَذِيرٞ مَّا زَادَهُمۡ إِلَّا نُفُورًا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
یہ لوگ کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی خبردار کرنے والا ان کے ہاں آ گیا ہوتا تو یہ دنیا کی ہر دوسری قوم سے بڑھ کر راست رو ہوتے مگر جب خبردار کرنے والا ان کے پاس آگیا تو اس کی آمد نے اِن کے اندر حق سے فرار کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کیا
English (Sahih International)
And they swore by Allah their strongest oaths that if a warner came to them, they would be more guided than [any] one of the [previous] nations. But when a warner came to them, it did not increase them except in aversion
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 42{ وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰہِ جَہْدَ اَیْمَانِہِمْ لَئِنْ جَآئَ ہُمْ نَذِیْـرٌ لَّـیَکُوْنُنَّ اَہْدٰی مِنْ اِحْدَی الْاُمَمِ } ”اور انہوں نے اللہ کی پختہ قسمیں کھائی تھیں کہ اگر ان کے پاس کوئی خبردار کرنے والاآیا تو وہ لازماً ہدایت یافتہ ہوجائیں گے کسی بھی امت سے بڑھ کر۔“ { فَلَمَّا جَآئَ ہُمْ نَذِیْرٌ مَّا زَادَہُمْ اِلَّا نُفُوْرَا } ”پھر جب آگئے ان کے پاس خبردار کرنے والے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اس چیز نے ان کے اندر حق سے فرار کے سوا کوئی اضافہ نہیں کیا۔“ جب محمد عربی ﷺ نے اللہ کے رسول کی حیثیت سے انہیں دعوت دینا شروع کی تو وہ آپ ﷺ کی دعوت سے بدکنے اور دور بھاگنے لگے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 42 to 44.
عرب کے لوگ جب سنتے کہ یہود نے اور دوسری قوموں نے اپنے نبیوں کی نافرمانی کی تو وہ پرجوش طورپر کہتے کہ اگر ایسا ہو کہ ہمارے درمیان کوئی نبی آئے تو ہم اس کو پوری طرح مانیں اور اس کی اطاعت کریں۔ مگر جب ان کے درمیان ایک پیغمبر آیا تو وہ اس کے مخالف بن گئے۔
یہ نفسیات کسی نہ کسی شکل میں تمام لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے کو حق پسند کے روپ میں ظاہر کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جب بھی کوئی صحیح بات اس کے سامنے آئے گی تو وہ ضرور اس کو مان لے گا۔ مگر جب حق کھلے کھلے دلائل کے ساتھ آتاہے تو وہ اس کو نظر انداز کردیتا ہے۔ حتی کہ اس کا مخالف بن جاتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ انکار حق کسی خاص قوم کی خصوصیت نہیں۔ وہ انسانی نفسیات کی عام خصوصیت ہے۔ حق کو ماننا اکثر حالات میں اپنی بڑائی کو ختم کرنے کے ہم معنی ہوتاہے۔ آدمی اپنی بڑائی کو کھونا نہیں چاہتا۔ اس ليے وہ حق کو ماننے کےلیے بھی تیار نہیں ہوتا۔ وہ بھول جاتاہے کہ حق کا انکار ضرور اس کے بس میںہے مگر حق کے انکار کے انجام سے اپنے آپ کو بچانا ہر گز اس کے بس میں نہیں۔