Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
قُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ شُرَكَآءَكُمُ ٱلَّذِينَ تَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَرُونِي مَاذَا خَلَقُواْ مِنَ ٱلۡأَرۡضِ أَمۡ لَهُمۡ شِرۡكٞ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ أَمۡ ءَاتَيۡنَٰهُمۡ كِتَٰبٗا فَهُمۡ عَلَىٰ بَيِّنَتٖ مِّنۡهُۚ بَلۡ إِن يَعِدُ ٱلظَّـٰلِمُونَ بَعۡضُهُم بَعۡضًا إِلَّا غُرُورًا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
(اے نبیؐ) ان سے کہو، “کبھی تم نے دیکھا بھی ہے اپنے اُن شریکوں کو جنہیں تم خدا کو چھوڑ کر پکارا کرتے ہو؟ مجھے بتاؤ، انہوں نے زمین میں کیا پیدا کیا ہے؟ یا آسمانوں میں ان کی کیا شرکت ہے ”؟ (اگر یہ نہیں بتا سکتے تو ان سے پوچھو) کیا ہم نے انہیں کوئی تحریر لکھ کر دی ہے جس کی بنا پر یہ (اپنے اس شرک کے لیے) کوئی صاف سند رکھتے ہوں؟ نہیں، بلکہ یہ ظالم ایک دوسرے کو محض فریب کے جھانسے دیے جا رہے ہیں
English (Sahih International)
Say, “Have you considered your ‘partners’ whom you invoke besides Allah? Show me what they have created from the earth, or have they partnership [with Him] in the heavens? Or have We given them a book so they are [standing] on evidence therefrom? [No], rather, the wrongdoers do not promise each other except delusion
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 40{ قُلْ اَرَئَ یْتُمْ شُرَکَآئَ کُمُ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ } ”آپ ﷺ کہیے کہ کیا تم نے اپنے ان شریکوں کے بارے میں کبھی غور کیا جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ؟“ { اَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَہُمْ شِرْکٌ فِی السَّمٰوٰتِ } ”ذرا مجھے دکھائو کہ انہوں نے زمین میں کونسی چیز پیدا کی ہے یا ان کی کوئی شراکت ہے آسمانوں میں !“ { اَمْ اٰتَیْنٰہُمْ کِتٰبًا فَہُمْ عَلٰی بَیِّنَتٍ مِّنْہُ } ”یا ہم نے انہیں کوئی کتاب عطا کی تھی اور وہ اس کی کسی واضح دلیل پر ہیں !“ کیا ان کے پاس ہماری نازل کردہ کوئی کتاب موجود ہے جس کی کسی واضح دلیل کی بنیاد پر انہوں نے اپنے اعتقادات اخذ کیے ہیں ؟ { بَلْ اِنْ یَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا } ”بلکہ یہ ظالم آپس میں ایک دوسرے کو وعدے نہیں دے رہے مگر فریب کے۔“ یہ ظالم ایک دوسرے سے محض ُ پرفریب وعدے کر رہے ہیں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 40 and 41.
کائنات کی تخلیق اور اتھاہ خلا میں بے شمار اجرام سماوی کا نظام ہیبت ناک حد تک عظیم ہے۔ یہ بالکل ناقابل قیاس ہے کہ اس عظیم کارنامہ کو جزئی یا کلّی طورپر ان ہستیوں میں سے کسی کی طرف منسوب کیا جاسکے جن کو لوگ بطور خود معبود بنا کر پوجتے ہیں۔ اسی طرح اس کا بھی ثبوت نہیں کہ خدا نے خود یہ خبر دی ہو کہ کوئی اور ہے جو اس کے ساتھ خدائی میں شریک ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ غیر اللہ کی پرستش کا سارا معاملہ صرف فریب پر قائم ہے۔ اس قسم کا فریب اسی وقت تک چلے گا جب تک قیامت نہ آئے۔ قیامت کے آتے ہی ان کا اس طرح خاتمہ ہوجائے گا جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔