Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 35:39 Prev 35:37


Arabic

إِنَّ ٱللَّهَ عَٰلِمُ غَيۡبِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ إِنَّهُۥ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

بے شک اللہ آسمانوں اور زمین کی ہر پوشیدہ چیز سے واقف ہے، وہ تو سینوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے


English (Sahih International)

Indeed, Allah is Knower of the unseen [aspects] of the heavens and earth. Indeed, He is Knowing of that within the breasts


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 38{ اِنَّ اللّٰہَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ”یقینا اللہ خوب جاننے والا ہے آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کا۔“ { اِنَّہٗ عَلِیْمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ } ”یقینا وہ واقف ہے سینوں میں چھپے رازوں سے۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 38 and 39.

اس آیت میں خلیفہ سے مراد پچھلی قوموں کا خلیفہ بننا ہے۔ ’’تم کو زمین میں خلیفہ بنایا‘‘ کا مطلب ہے پچھلی قوموں کے گزرنے کے بعد تم کو ان کی جگہ زمین میں آباد کیا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ ہے کہ وہ ایک قوم کو زمین میں بسنے اور عمل کرنے کا موقع دیتاہے۔ پھر جب وہ قوم اپنی نا اہلی ثابت کردیتی ہے تو اس کو ہٹا کر دوسری قوم کو اس کی جگہ لے آتا ہے۔ اس طرح زمین پر ایک کے بعد ایک قوم کی آبادکاری کا سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے۔

موجودہ زمانہ میں فطرت کے جو قوانین دریافت ہوئے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ یہاں اس کا امکان ہے کہ اندھیرے میں کسی چیز کا فوٹو لیا جائے۔ بظاہر نہ سنائی دینے والی آواز کو مشین کی مدد سے قابل سماعت بنایا جاسکے۔ تخلیق میںاس طرح کے امکانات خالق کی قدرت کاتعارف ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات کا خالق ایک ایسی ہستی ہے جو غیب کو جانے اور دل کے اندر چھپی ہوئی بات کو سن سکے۔ گویا انسان کا معاملہ ایک ایسے علیم اور قدیرخدا سے ہے جس سے نہ کسی جرم کو چھپایا جاسکتااور نہ یہی ممکن ہے کہ اس کے فیصلہ کو کسی طرح بدلوایا جاسکے۔


Connections

  • Previous: 35_37
  • Next: 35_39
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes