Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 35:4 Prev 35:2


Arabic

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱذۡكُرُواْ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡۚ هَلۡ مِنۡ خَٰلِقٍ غَيۡرُ ٱللَّهِ يَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِۚ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ فَأَنَّىٰ تُؤۡفَكُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

لوگو، تم پر اللہ کے جو احسانات ہیں انہیں یاد رکھو کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق بھی ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہو؟ کوئی معبود اُس کے سوا نہیں، آخر تم کہاں سے دھوکا کھا رہے ہو؟


English (Sahih International)

O mankind, remember the favor of Allah upon you. Is there any creator other than Allah who provides for you from the heaven and earth? There is no deity except Him, so how are you deluded


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 3 { یٰٓــاَیُّہَا النَّاسُ اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ } ”اے لوگو ! اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو تم پر ہوئی ہے۔“ اللہ کے جو احسانات تم پر ہوئے ہیں انہیں یاد کرو اور ان کی قدر کرو ! { ہَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰہِ یَرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ } ”کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تمہیں رزق بہم پہنچاتا ہو آسمان سے اور زمین سے ؟“ { لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَز فَاَنّٰی تُؤْفَکُوْنَ } ”نہیں ہے کوئی معبود سوائے اس کے ‘ تو تم کہاں سے الٹے پھرائے جا رہے ہو !“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 3 and 4.

انسان اپنی زندگی کےلیے بے شمار چیزوں کا محتاج ہے۔ مثلاً روشنی، پانی، ہوا، خوراک، معدنیات وغیرہ۔ ان میں سے ہر چیز ایسی ہے کہ اس کو وجود میں لانے کےلیے کائناتی طاقتوں کا متحدہ عمل درکار ہے۔ ایک خدا کے سوا کون ہے جو اتنے بڑے واقعہ کو ظہور میں لانے کی طاقت رکھتا ہو۔ مشرک اور ملحد لوگ بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ ان اسباب حیات کی فراہمی ایک خدا کے سوا کوئی اور کرسکتا ہے۔ پھر جب ان تمام چیزوں کا خالق اور منتظم ایک خدا ہے تو اس کے سوا دوسروں کو معبود بنانا کیوں کر درست ہوسکتاہے۔

تاریخ کا یہ عجیب تجربہ ہے کہ جو لوگ خدا کے سوا دوسروں کو بڑائی کا مقام دئے ہوئے ہوں وہ ان کو چھوڑ کر خدا کو اپنا بڑا بنانے پر راضی نہیں ہوتے، خواہ ا س کی دعوت پیغمبرانہ سطح پر کیوں نہ دی جارہی ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ ہمیشہ مانے ہوئے کو مانتے ہیں۔ جب کہ پیغمبر پر یقین کرنے کا مطلب اس وقت یہ ہوتا ہے کہ آدمی نہ مانے ہوئے کو مانے۔ اس قسم کے ایمان کو حاصل کرنے کی شرط یہ ہے کہ آدمی خود اپنی فکری قوتوں کو بیدار کرے، وہ اپنی ذاتی بصیرت سے سچائی کو دریافت کرے۔ اور بلا شبہ یہ کسی انسان کےلیے ہمیشہ سب سے زیادہ مشکل کام رہا ہے۔


Connections

  • Previous: 35_2
  • Next: 35_4
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes