Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَتۡلُونَ كِتَٰبَ ٱللَّهِ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَنفَقُواْ مِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ سِرّٗا وَعَلَانِيَةٗ يَرۡجُونَ تِجَٰرَةٗ لَّن تَبُورَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے اُنہیں رزق دیا ہے اس میں سے کھلے اور چھپے خرچ کرتے ہیں، یقیناً وہ ایک ایسی تجارت کے متوقع ہیں جس میں ہرگز خسارہ نہ ہوگا
English (Sahih International)
Indeed, those who recite the Book of Allah and establish prayer and spend [in His cause] out of what We have provided them, secretly and publicly, [can] expect a profit that will never perish
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 29{ اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ کِتٰبَ اللّٰہِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ } ”یقینا وہ لوگ جو تلاوت کرتے ہیں اللہ کی کتاب کی اور نماز قائم کرتے ہیں“ { وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰہُمْ سِرًّا وَّعَلَانِیَۃً } ”اور خرچ کرتے ہیں اس میں سے جو ہم نے انہیں دیا ہے خفیہ اور اعلانیہ“ { یَّرْجُوْنَ تِجَارَۃً لَّنْ تَبُوْرَ } ”وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جس میں کبھی خسارہ نہیں ہوگا۔“ اللہ کے راستے میں جان و مال خرچ کرنے کو قرآن میں تجارت سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ سورة الصف میں اس حوالے سے پہلے اہل ِایمان سے سوال کیا گیا : { یٰٓــاَ یُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ہَلْ اَدُلُّکُمْ عَلٰی تِجَارَۃٍ تُنْجِیْکُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۔ ”اے اہل ایمان ! کیا میں تمہیں ایک ایسی تجارت کے بارے میں بتائوں جو تمہیں درد ناک عذاب سے بچا لے ؟“ اور پھر جواب میں یوں فرمایا گیا : { تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُجَاہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْط } آیت 11 ”وہ تجارت یہ ہے کہ تم ایمان لائو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر اور اس کے راستے میں جہاد کرو اپنے اموال اور اپنی جانوں کے ساتھ۔“ کسی بھی کاروبار اور تجارت کو کامیاب کرنے کے لیے سرمایہ اور محنت دونوں چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ چناچہ جس طرح دنیا میں تم اپنی تجارت کو فروغ دینے اور زیادہ منافع کمانے کے لیے بڑھ چڑھ کر سرمایہ لگاتے ہو اور پھر اس میں دن رات کی محنت سے جان بھی کھپاتے ہو ‘ اسی طرح جان و مال لگا کر اگر تم اللہ کے ساتھ تجارت کرو گے تو اس میں تمہیں کبھی نقصان نہیں اٹھانا پڑے گا اور منافع بھی ایسا ملے گا کہ تم آخرت کے عذاب سے چھٹکارا پا کر ہمیشہ کی کامیابی سے ہمکنار ہو جائو گے۔ آیت زیر مطالعہ میں نیک اعمال کی ترغیب کو عام فہم بنانے کے لیے تجارت کی تشبیہہ کا استعمال کیا گیا ہے۔ دراصل قرآن مجید بنیادی باتوں کو سمجھانے کے لیے عموماً ایسے الفاظ استعمال کرتا ہے جو عام لوگوں کی سمجھ میں بھی آسانی سے آجائیں۔ جیسے سورة التوبہ کی آیت 111 میں فرمایا گیا : { اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ بِاَنَّ لَہُمُ الْجَنَّۃَط } ”یقینا اللہ نے خرید لی ہیں اہل ایمان سے ان کی جانیں بھی اور ان کے مال بھی اس قیمت پر کہ ان کے لیے جنت ہے۔“ اس آیت میں بھی ایک ”سودے“ کی بات کی گئی ہے تاکہ ہر آدمی مضمون کے اصل مدعا کو سمجھ سکے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرلے جو اس کے ساتھ اپنے مال و جان کا سودا کرنے والے ہیں !
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 29 to 31.
علم والا وہ ہے جو معرفت والا ہو۔ اور جس شخص کو معرفت حاصل ہوجائے وہ خدا کی کتاب کو اپنا فکری رہبر بنا لیتاہے۔ وہ اللہ کا عبادت گزاربندہ بن جاتا ہے۔ انسانوں کے حق میں وہ اتنا مہربان ہوجاتا ہے کہ اپنی محنت کی کمائی میں سے ان کےلیے بھی حصہ لگاتاہے۔ اس کے اندر یہ حوصلہ پیدا ہوجاتاہے کہ ہمہ تن اپنے آپ کو خدا کے کام میں لگا دے اور اس پر قانع رہے کہ اس کا انعام اس کو آخرت میں دیا جائے گا۔
قرآن کی صداقت کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ وہ عین ان پیشین گوئیوں کے مطابق ہے جو پچھلی کتابوں میں اس سے پہلے آچکی تھیں۔ اگر کوئی شخص سنجیدہ ہو تو یہی واقعہ اس کے قرآن پر ایمان لانے کےلیے کافی ہوجائے۔