Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 34:47 Prev 34:45


Arabic

۞قُلۡ إِنَّمَآ أَعِظُكُم بِوَٰحِدَةٍۖ أَن تَقُومُواْ لِلَّهِ مَثۡنَىٰ وَفُرَٰدَىٰ ثُمَّ تَتَفَكَّرُواْۚ مَا بِصَاحِبِكُم مِّن جِنَّةٍۚ إِنۡ هُوَ إِلَّا نَذِيرٞ لَّكُم بَيۡنَ يَدَيۡ عَذَابٖ شَدِيدٖ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اے نبیؐ، اِن سے کہو کہ “میں تمہیں بس ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں خدا کے لیے تم اکیلے اکیلے اور دو دو مل کر اپنا دماغ لڑاؤ اور سوچو، تمہارے صاحب میں آخر ایسی کونسی بات ہے جو جنون کی ہو؟ وہ تو ایک سخت عذاب کی آمد سے پہلے تم کو متنبہ کرنے والا ہے


English (Sahih International)

Say, “I only advise you of one [thing] - that you stand for Allah, [seeking truth] in pairs and individually, and then give thought.” There is not in your companion any madness. He is only a warner to you before a severe punishment


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 46 { قُلْ اِنَّمَآ اَعِظُکُمْ بِوَاحِدَۃٍ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے کہ میں تمہیں بس ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں۔“ اس آیت کا تعلق آیت 8 سے ہے۔ مذکورہ آیت کے ضمن میں ذکر ہوچکا ہے کہ حضور ﷺ کے دعوائے نبوت کے بارے میں مختلف لوگ مختلف آراء رکھتے تھے۔ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو ابھی شش و پنج میں تھے کہ یہ معاملہ آخر ہے کیا ؟ ان میں سے بعض کا خیال تھا کہ ان کا دماغی توازن بگڑ گیا ہے۔ کچھ سمجھتے تھے کہ انہیں جنون کا عارضہ لاحق ہوگیا ہے ‘ جبکہ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ آپ کسی منصوبہ بندی کے تحت جان بوجھ کر جھوٹ بول رہے ہیں۔ العیاذ باللہ ! لیکن ایسے لوگوں کے ذہنوں میں ایک بہت بڑا سوال یہ بھی گردش کرتا رہتا تھا کہ ایک ایسا شخص آخر اتنا بڑا جھوٹ کیسے بول سکتا ہے جس نے کبھی چھوٹے سے چھوٹے معاملے میں بھی جھوٹ نہیں بولا اور جس کو ہم خود الصادق اور الامین کا خطاب دے چکے ہیں۔ چناچہ بہت سے لوگ اس بارے میں ابھی ذہنی خلجان کا شکار تھے اور کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ پا رہے تھے کہ آپ ﷺ کی دعوت کی اصل حقیقت ہے کیا ! ایسے تمام لوگوں کو ان آیات میں سنجیدہ غور و فکر پر آمادہ کرنے کے لیے دعوت دی جا رہی ہے کہ اس طرح شاید انہیں اپنے گریبانوں میں جھانکنے ‘ اپنے موروثی عقائد کی عصبیت سے بالاتر ہو کر سوچنے اور کسی مثبت نتیجے پر پہنچنے کا موقع مل جائے۔ اس لحاظ سے یہ آیات بہت اہم ہیں۔ { اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰہِ مَثْنٰی وَفُرَادٰی ثُمَّ تَتَفَکَّرُوْا } ”یہ کہ تم کھڑے ہو جائو اللہ کے لیے دو دو ہو کر یا اکیلے اکیلے ‘ پھر غور کرو !“ یعنی کسی وقت تم دو دو آدمی باہم گفتگو کر کے یا الگ الگ کچھ دیر کے لیے اپنی توجہ کو مرتکز کر کے اللہ کو اپنے سامنے تصور کرتے ہوئے کھڑے ہو جائو ‘ پھر غور وفکر کرو۔ اگر تم اس انداز میں سنجیدگی سے غور کرو گے تو حقیقت ضرور تم پر واضح ہوجائے گی۔ { مَا بِصَاحِبِکُمْ مِّنْ جِنَّۃٍ } ”تمہارے ساتھی کو جنون کا کوئی عارضہ نہیں ہے !“ اگر کسی شخص پر جنون یا آسیب کے اثرات ہوں تو اس کے کچھ شواہد بھی نظر آتے ہیں۔ تم لوگ ہمارے نبی ﷺ کی گزشتہ زندگی کے شب و روز کے بارے میں سوچو ‘ آپ ﷺ کی بات چیت پر غور کرو ‘ آپ ﷺ کے اخلاق و معاملات کا جائزہ لو ‘ کیا تمہیں کسی بھی پہلو سے ان میں جنون کے کچھ آثار نظر آتے ہیں ؟ کیا آسیب زدہ لوگوں کے اقوال و افعال اور معمولاتِ زندگی ایسے صاف ستھرے اور مثالی ہوتے ہیں ؟ { اِنْ ہُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ لَّکُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ } ”وہ نہیں ہیں مگر تمہارے لیے ایک خبردار کرنے والے ‘ ایک سخت عذاب کے آنے سے پہلے۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 46 and 47.

پیغمبر کے معاصرین نے پیغمبر کی دعوت کا انکار کردیا۔ مگر اس کے پیچھے ضد اور تعصب کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ ضد اور تعصب سے خالی ہو کر سوچتے، خواہ اکیلے اکیلے سوچتے، یا چند آدمی مل کر اجتماعی طورپر غور کرتے، تو وہ پاتے کہ ان کا پیغمبر کوئی دیوانہ آدمی نہیں ہے۔ آپ کی سابقہ زندگی آپ کی سنجیدگی کی گواہی دیتی ۔ آپ کا درد مندانہ انداز بتاتا کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہی آپ کے دل کی آواز ہے۔ آپ کے کلام کا حکیمانہ اسلوب اس کی صحت کی داخلی شہادت نظر آتا۔ آپ کا کسی معاوضہ کا طالب نہ ہونا ظاہر کرتا کہ آپ نے اس کام کو محض اللہ کی خاطر شروع کیا ہے، نہ کہ ذاتی تجارت کی خاطر۔ غیر جانب دارانہ غور وفکر میں وہ جان لیتے کہ آپ کی بے قراری جنون کی بے قرار ی نہیں ہے بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ آپ جس خطرہ سے ڈرانے کےلیے اٹھے ہیں اس کو اپنی آنکھوں سے آتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ مگر وہ دعوت حق کے بارے میں سنجیدہ نہ تھے اس ليے یہ کھلے ہوئے حقائق ان کو نظر بھی نہ آسکے۔


Connections

  • Previous: 34_45
  • Next: 34_47
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes