Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُنَا بَيِّنَٰتٖ قَالُواْ مَا هَٰذَآ إِلَّا رَجُلٞ يُرِيدُ أَن يَصُدَّكُمۡ عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ ءَابَآؤُكُمۡ وَقَالُواْ مَا هَٰذَآ إِلَّآ إِفۡكٞ مُّفۡتَرٗىۚ وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمۡ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا سِحۡرٞ مُّبِينٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اِن لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ “یہ شخص تو بس یہ چاہتا ہے کہ تم کو اُن معبودوں سے برگشتہ کر دے جن کی عبادت تمہارے باپ دادا کرتے آئے ہیں” اور کہتے ہیں کہ “یہ (قرآن) محض ایک جھوٹ ہے گھڑا ہوا” اِن کافروں کے سامنے جب حق آیا تو انہیں نے کہہ دیا کہ “یہ تو صریح جادو ہے
English (Sahih International)
And when our verses are recited to them as clear evidences, they say, “This is not but a man who wishes to avert you from that which your fathers were worshipping.” And they say, “This is not except a lie invented.” And those who disbelieve say of the truth when it has come to them, “This is not but obvious magic
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 43 { وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا ہٰذَآ اِلَّا رَجُلٌ یُّرِیْدُ اَنْ یَّصُدَّکُمْ عَمَّا کَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُکُمْ } ”اور جب انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری روشن آیات ‘ تو وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ یہ شخص تو بس یہی چاہتا ہے کہ تم کو ان سے روک دے جن کی عبادت تمہارے آباء و اَجداد کرتے تھے“ { وَقَالُوْا مَا ہٰذَآ اِلَّآ اِفْکٌ مُّفْتَرًی } ”اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ کچھ بھی نہیں ہے مگر ایک گھڑا ہواجھوٹ۔“ یعنی یہ قرآن دراصل محمد ﷺ کا اپنا کلام ہے جس کو وہ وحی کے نام سے پیش کر رہے ہیں۔ { وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآئَ ہُمْ اِنْ ہٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ} ”اور ان کافروں نے حق کے بارے میں جبکہ یہ ان کے پاس آگیا ‘ کہا کہ یہ کچھ بھی نہیں ہے مگر ایک کھلا ہواجادو۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 43 to 45.
قرآن اپنے مخاطبین کے سامنے کھلے کھلے دلائل دے رہا تھا۔ مخاطبین دلیل سے اس کا توڑ نہیں کرسکتے تھے۔ اس کے باوجود وہ عوام کو اس سے روکنے میںکامیاب ہوگئے۔ ان کی اس کامیابی کا واحد راز یہ تھا کہ انھوں نے لوگوں کو یہ کہہ کر اس کی طرف سے مشتبہ کردیاکہ یہ ہمارے اسلاف کے طریقہ کے خلاف ہے۔ قرآن میں جو معجزانہ ادب تھا اس کا انکار ناممکن تھا۔ اس کے بارے میں لوگوں کو یہ کہہ کر مطمئن کردیاگیا کہ یہ محض جادو بیانی کا کرشمہ ہے، وحی الٰہی ہونے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ محض قلم کا زور ہے، نہ کہ علم حقیقت کا زور— تاریخ کا یہ تجربہ نہایت عجیب ہے کہ ہر دور کے لوگوں کےلیے دلیل کے مقابلہ میں تعصب زیادہ طاقت ور ثابت ہوا ہے۔
قرآن کے مخاطبین کے پاس قرآن کا انکار کرنے کےلیے یا تو عقلی دلائل ہوتے جن کے ذریعہ وہ اس کو رد کرسکتے یا ان کے پاس کوئی دوسری آسمانی کتاب ہوتی جس سے قرآن کی تردید نکالی جاسکتی۔ مخاطبین قرآن کے پاس ان دونوں میں سے کوئی چیز موجود نہ تھی۔ مزید یہ کہ دنیوی ترقی میں بھی وہ دوسری قوموں سے بہت زیادہ پیچھے تھے۔ جن لوگوں کا یہ حال ہو وہ اگر دعوتِ حق کا انکار کرتے ہیں تو اس کی وجہ ہٹ دھرمی ہے،نہ کہ معقولیت۔