Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيعٗا ثُمَّ يَقُولُ لِلۡمَلَـٰٓئِكَةِ أَهَـٰٓؤُلَآءِ إِيَّاكُمۡ كَانُواْ يَعۡبُدُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور جس دن وہ تمام انسانوں کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے پوچھے گا “کیا یہ لوگ تمہاری ہی عبادت کیا کرتے تھے؟
English (Sahih International)
And [mention] the Day when He will gather them all and then say to the angels, “Did these [people] used to worship you
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 40 { وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اَہٰٓؤُلَآئِ اِیَّاکُمْ کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ } ”اور جس دن وہ جمع کرے گا ان سب کو ‘ پھر فرشتوں سے فرمائے گا : کیا یہ لوگ تمہیں پوجا کرتے تھے ؟“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 40 to 42.
فرشتے انسان کو نظر نہیں آتے۔ یہ دراصل پیغمبر ہیں جنھوںنے انسان کو فرشتوں کے وجود کی خبر دی۔ یہ خبر انھیں اس ليے دی گئی تھی کہ وہ خدا کے عظمت وجلال کو محسوس کریں اور پوری طرح اس کی عبادت میں لگ جائیں۔ مگر شیطان نے عجیب وغریب طورپر لوگوں کو سکھایا کہ براہِ راست خدا کا تقرب حاصل کرنا مشکل ہے۔ اس ليے انھیں چاہيے کہ وہ فرشتوں کی عبادت کریں اور ان کے ذریعے سے خدا کا تقرب حاصل کریں۔ چنانچہ ساری دنیا میں فرشتوں کے بت بنا کر ان کی عبادت شروع کردی گئی۔ دیوی دیوتاؤں کا عقیدہ بھی دراصل فرشتوں ہی کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ جو فرشتہ بارش پر مقرر تھا اس کو بارش کا دیوتا سمجھ لیاگيا۔ جو فرشتہ ہوا پر مقرر تھا اس کو ہوا کا دیوتا سمجھ لیاگيا، وغیرہ۔
فرشتے آخرت میں ایسے عبادت گزاروں سے برأت ظاہر کریں گے۔ آخرت میں ان کو نہ خدا کی مدد حاصل ہوگی اور نہ فرشتوں کی۔ وہ ہمیشہ کےلیے بے یارومددگار ہوکر رہ جائیں گے۔