Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
لِّيَجۡزِيَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِۚ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُم مَّغۡفِرَةٞ وَرِزۡقٞ كَرِيمٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور یہ قیامت اس لئے آئے گی کہ جزا دے اللہ اُن لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اور نیک عمل کرتے رہے ہیں اُن کے لیے مغفرت ہے اور رزق کریم
English (Sahih International)
That He may reward those who believe and do righteous deeds. Those will have forgiveness and noble provision
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 4 { لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ } ”تاکہ وہ جزا دے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے۔“ انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہر انسان کو اس کے اعمال کا بدلہ ملے۔ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے دنیوی لذائذ کو چھوڑا ‘ اپنی آسائشوں کو قربان کیا ‘ حق کا َعلم بلند کرنے کے لیے اپنا دنیوی مستقبل دائو پر لگا دیا ‘ اپنی جان جوکھوں میں ڈالی اور اللہ کے راستے میں جہاد و قتال کیا ‘ اگر انہیں ان کی کوششوں کا بھر پور صلہ نہیں دیا جاتا اور انہیں انعام و اکرام سے نہیں نوازا جاتا تو ان کے ساتھ بہت بڑی زیادتی اور ناانصافی ہوگی۔ چناچہ تمام انسانوں کو ان کے اعمال کے مطابق بھر پور صلہ دینے کے لیے ایک دوسری دنیا کا قیام نا گزیر ہے۔ { اُولٰٓئِکَ لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ} ”یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں مغفرت بھی ہوگی اور بہت با عزت روزی بھی۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 34:3.