Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 34:29 Prev 34:27


Arabic

وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ إِلَّا كَآفَّةٗ لِّلنَّاسِ بَشِيرٗا وَنَذِيرٗا وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور (اے نبیؐ،) ہم نے تم کو تمام ہی انسانوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں


English (Sahih International)

And We have not sent you except comprehensively to mankind as a bringer of good tidings and a warner. But most of the people do not know


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 28 { وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا } ”اور اے نبی ﷺ ! ہم نے نہیں بھیجا ہے آپ کو مگر تمام بنی نوع انسانی کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر“ تمام انبیاء و رسل علیہ السلام میں یہ اعزاز صرف محمد رسول اللہ ﷺ کے حصے میں آیا کہ آپ ﷺ کو تمام بنی نوع انسانی کی طرف رسول ﷺ بنا کر بھیجا گیا۔ اس سلسلے میں یہ اہم نکتہ بھی نوٹ کیجئے کہ یہ فیصلہ تاریخ انسانی کے اس مرحلے پر کیا گیا جب انسانی تمدن اور ذرائع رسل و رسائل کی ترقی کے باعث آپ ﷺ کی دعوت کو دنیا کے کونے کونے میں ایک ایک شخص تک پہنچانا عملی طور پر ممکن ہونے کے قریب تھا۔ ورنہ اس سے پہلے عملی طور پر کسی نبی یا رسول کی دعوت کو پوری نوع انسانی تک پہنچانا ممکن ہی نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ سے پہلے جتنے بھی پیغمبر آئے وہ مخصوص علاقوں میں ایک ایک قوم کی طرف مبعوث ہو کر آئے۔ اسی لیے آپ ﷺ سے پہلے کے پیغمبروں کی بعثت کا تعارف قرآن حکیم میں اس طرح کرایا گیا ہے : { وَاِلٰی عَادٍ اَخَاہُمْ ہُوْدًاط } ھود : 50 { وَاِلٰی ثَمُوْدَ اَخَاہُمْ صٰلِحًا 7} ھود : 61 ‘ { وَاِلٰی مَدْیَنَ اَخَاہُمْ شُعَیْبًا } ھود : 84۔ لیکن حضور ﷺ کی بعثت کے بارے میں یہاں یوں فرمایا گیا : { وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا }۔ { وَّلٰـکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ } ”لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 28 to 30.

ہر نبی نے براہِ راست طورپر صرف اپنی قوم کے اوپر دعوتی کام کیا۔ اور یہی عملاً ممکن تھا۔ اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بھی براہِ راست طورپر اپنی ہی قوم کےلیے منذر اور مبشر بنے (الانعام،

6:92

)۔ مگر چوں کہ آپ پر نبوت ختم ہوگئی اس ليے اب تمام قوموں کےلیے حکماً آپ ہی منذر اور مبشر ہیں۔ اپنے زمانے میں مخاطبین اول پر جس طرح آپ نے انذار و تبشیر کا کام کیا اسی طرح بعد کے زمانے میں دوسرے تمام مخاطبین پر آپ کی امت کو نیابۃً انذار وتبشیر کا کام کرنا ہے۔ یہ سارا کام آپ کی نبوت کے تسلسل میں شمار ہوگا۔ آپ کی زندگی میں کیا جانے والا دعوتی کام براہِ راست طورپر آپ کے دائرۂ نبوت میں داخل ہے۔ اور آپ کی دنیوی زندگی کے بعد کیا جانے والا کام بالواسطہ طور پر۔

پیغمبر کا کام ہمیشہ صرف پہنچانا ہوتا ہے۔ اس کے بعد قوموں کے عملی انجام کا فیصلہ کرنا خدا کا کام ہے، موجودہ دنیا میں بھی اور آئندہ آنے والی دنیا میں بھی۔


Connections

  • Previous: 34_27
  • Next: 34_29
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes