Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَمَا كَانَ لَهُۥ عَلَيۡهِم مِّن سُلۡطَٰنٍ إِلَّا لِنَعۡلَمَ مَن يُؤۡمِنُ بِٱلۡأٓخِرَةِ مِمَّنۡ هُوَ مِنۡهَا فِي شَكّٖۗ وَرَبُّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيظٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
ابلیس کو اُن پر کوئی اقتدار حاصل نہ تھا مگر جو کچھ ہوا وہ اس لیے ہوا کہ ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ کون آخرت کا ماننے والا ہے اور کون اس کی طرف سے شک میں پڑا ہوا ہے تیرا رب ہر چیز پر نگران ہے
English (Sahih International)
And he had over them no authority except [it was decreed] that We might make evident who believes in the Hereafter from who is thereof in doubt. And your Lord, over all things, is Guardian
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 21 { وَمَا کَانَ لَہٗ عَلَیْہِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ } ”اور اس کو ان پر کوئی اختیار حاصل نہیں تھا“ ابلیس کا انسانوں پر کوئی زور نہیں چلتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو صرف مہلت دے رکھی ہے۔ اس مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ انسانوں کو حیلے بہانے سے ورغلاتا اور انہیں سبز باغ دکھاتا ہے۔ اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں کرسکتا اور اسے یہ مہلت بھی انسانوں کی آزمائش کے لیے دی گئی ہے۔ { اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَۃِ } ”مگر یہ کہ ہم دیکھ لیں کہ کون ہے جو آخرت پر یقین رکھتا ہے“ تاکہ آخرت پر ایمان رکھنے والے لوگوں کی پہچان ہوجائے اور انہیں ہم چھانٹ کر الگ کرلیں : { مِمَّنْ ہُوَ مِنْہَا فِیْ شَکٍّ وَرَبُّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ حَفِیْظٌ} ”ان لوگوں سے جو اس سے متعلق شک میں ہیں۔ اور آپ کا پروردگار ہرچیز پر نگران ہے۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 34:20.