Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 34:15 Prev 34:13


Arabic

فَلَمَّا قَضَيۡنَا عَلَيۡهِ ٱلۡمَوۡتَ مَا دَلَّهُمۡ عَلَىٰ مَوۡتِهِۦٓ إِلَّا دَآبَّةُ ٱلۡأَرۡضِ تَأۡكُلُ مِنسَأَتَهُۥۖ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ ٱلۡجِنُّ أَن لَّوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ ٱلۡغَيۡبَ مَا لَبِثُواْ فِي ٱلۡعَذَابِ ٱلۡمُهِينِ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

پھر جب سلیمانؑ پر ہم نے موت کا فیصلہ نافذ کیا تو جنوں کو اس کی موت کا پتہ دینے والی کوئی چیز اُس گھن کے سوا نہ تھی جو اس کے عصا کو کھا رہا تھا اس طرح جب سلیمانؑ گر پڑا تو جنوں پر یہ بات کھل گئی کہ اگر وہ غیب کے جاننے والے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں مبتلا نہ رہتے


English (Sahih International)

And when We decreed for Solomon death, nothing indicated to the jinn his death except a creature of the earth eating his staff. But when he fell, it became clear to the jinn that if they had known the unseen, they would not have remained in humiliating punishment


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 14 { فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْہِ الْمَوْتَ } ”پھر جب ہم نے اس علیہ السلام پر موت طاری کردی“ { مَا دَلَّہُمْ عَلٰی مَوْتِہٖٓ اِلَّا دَآبَّۃُ الْاَرْضِ } ”تو کسی نے ان جنات کو اس کی موت سے آگاہ نہ کیا مگر زمین کے کیڑے نے“ { تَاْکُلُ مِنْسَاَتَہٗ } ”جو اس علیہ السلام کے عصا کو کھاتا تھا۔“ حضرت سلیمان علیہ السلام ِجنات ّکی نگرانی کے لیے اپنے عصا کے سہارے کھڑے تھے کہ آپ علیہ السلام کی روح قبض ہوگئی مگر آپ علیہ السلام کا جسد مبارک اسی طرح کھڑا رہا۔ یہاں تک کہ دیمک نے آپ علیہ السلام کی لاٹھی کو کھا کر کھوکھلا کردیا۔ اس دوران جنات آپ علیہ السلام کی موت سے بیخبر کام میں مصروف رہے۔ وہ یہی سمجھتے رہے کہ آپ کھڑے ان کی نگرانی کر رہے ہیں۔ { فَلَمَّا خَرَّ تَـبَـیَّـنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّــوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْْعَذَابِ الْمُہِیْنِ } ”پھر جب وہ گرپڑا توجنوں پر واضح ہوگیا کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں نہ پڑے رہتے۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

حضرت سلیمان علیہ السلام کی موت کا وقت آیا تو وہ اپنا عصا ٹیکے ہوئے تھے اور جنوں سے کوئی تعمیری کام کرارہے تھے۔ موت کے فرشتے نے آپ کی روح قبض کرلی۔ مگر آپ کا بے جان جسم عصا کے سہارے بدستور قائم رہا۔ جنات یہ سمجھ کر اپنے کام میں لگے رہے کہ آپ ان کے قریب موجودہیں اور نگرانی کررہے ہیں۔ اس کے بعد عصا میں دیمک لگ گئی۔ ایک عرصہ کے بعد دیمک نے عصا کو کھوکھلا کردیا تو آپ کا جسم زمین پر گر پڑا اس وقت جنوں کو معلوم ہوا کہ آپ وفات پاچکے ہیں۔

یہ واقعہ اس صورت میں غالباً اس ليے پیش آیا تاکہ لوگوں کے اس غلط عقیدہ کی عملی تردید ہوجائے کہ جنّات غیب کا علم رکھتے ہیں۔


Connections

  • Previous: 34_13
  • Next: 34_15
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes