Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 34:11 Prev 34:9


Arabic

۞وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا دَاوُۥدَ مِنَّا فَضۡلٗاۖ يَٰجِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُۥ وَٱلطَّيۡرَۖ وَأَلَنَّا لَهُ ٱلۡحَدِيدَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

ہم نے داؤدؑ کو اپنے ہاں سے بڑا فضل عطا کیا تھا (ہم نے حکم دیا کہ) اے پہاڑو، اس کے ساتھ ہم آہنگی کرو (اور یہی حکم ہم نے) پرندوں کو دیا ہم نے لوہے کو اس کے لیے نرم کر دیا


English (Sahih International)

And We certainly gave David from Us bounty. [We said], “O mountains, repeat [Our] praises with him, and the birds [as well].” And We made pliable for him iron


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 10 { وَلَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا } ”اور ہم نے دائود علیہ السلام کو اپنی طرف سے خاص فضل عطا کیا تھا۔“ حضرت دائود اور حضرت سلیمان ﷺ کا ذکر اس سے پہلے سورة النمل میں آچکا ہے۔ وہاں حضرت دائود علیہ السلام کا ذکر بہت اختصار کے ساتھ ہے جبکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے حالات تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔ اب اس سورت میں بھی حضرت دائود علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام دونوں ہی کا ذکر ہے ‘ مگر یہاں حضرت دائود علیہ السلام کی شخصیت کو نسبتاً زیادہ نمایاں کیا گیا ہے۔ { یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَہٗ وَالطَّیْرَ } ”ہم نے حکم دیا کہ اے پہاڑو ! تم تسبیح کو دہرائو اس کے ساتھ اور پرندوں کو بھی یہی حکم دیا تھا۔“ ”تا ویب“ گویا ”ترجیع“ کا ہم معنی لفظ ہے ‘ یعنی لوٹانا اور دہرانا۔ جیسے کوئی نظم یا غزل پڑھ رہا ہو اور اس میں ایک بول یا مصرعے کو وہ بار بار اس طرح دہرائے کہ اس دوران کچھ دوسرے لوگ بھی اس کی آواز کے ساتھ آواز ملا لیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں اور پرندوں کو حکم دے رکھا تھا کہ جب حضرت دائود علیہ السلام حمد و تسبیح کے ترانے پڑھیں تو وہ بھی آپ علیہ السلام کے ساتھ شامل ہوجائیں اور آپ علیہ السلام کی آواز کے ساتھ آواز ملائیں۔ { وَاَلَنَّا لَہُ الْحَدِیْدَ } ”اور ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کردیا تھا۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 10 and 11.

ایک مومن جب خدا کی یاد سے سرشار ہو کر اس کی تسبیح کرتاہے تو اس وقت وہ ساری کائنات کا ہم نوا ہوتا ہے۔ زمین وآسمان کی تمام چیزیں تسبیح ِخداوندی میں اس کی شریک آواز ہوجاتی ہیں۔ تاہم کائنات کی یہ ہم نوائی خاموش زبان میں ہوتی ہے۔ مگر حضرت داؤد علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے یہ خصوصیت دی کہ جب وہ تسبیح کرتے تو پہاڑ اور چڑیاں محسوس طور پر آپ کے ساتھ تسبیح خوانی میں شریک ہوجاتیں۔

اسی طرح حضرت داؤد کو اللہ تعالیٰ نے لوہے کی صنعت سکھائی۔ انھوںنے لوہے کے پگھلانے اور ڈھالنے کے فن کو ترقی دی کہ وہ نہایت باریک کڑیوں کی زرہیں بنانے لگے جن کو آدمی کپڑے کی طرح پہن سکے۔ اس وقت دنیا میں یہ فن موجود نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے براہِ راست طورپر فرشتوں کے ذریعہ یہ فن آپ کو سکھایا۔

مومن صنعت اور سائنس میں بڑی بڑی ترقیاں کرسکتا ہے۔ مگر اس کےلیے لازم ہے کہ وہ انساني ترقی کو صرف اصلاح کے دائرہ میں استعمال کرے۔ وہ جو کچھ کرے اس احساسات کے تحت کرے کہ آخر کار اس کو جواب دہی کےلیے خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے۔


Connections

  • Previous: 34_9
  • Next: 34_11
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes