Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
إِنَّا عَرَضۡنَا ٱلۡأَمَانَةَ عَلَى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱلۡجِبَالِ فَأَبَيۡنَ أَن يَحۡمِلۡنَهَا وَأَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَحَمَلَهَا ٱلۡإِنسَٰنُۖ إِنَّهُۥ كَانَ ظَلُومٗا جَهُولٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اُسے اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور اس سے ڈر گئے، مگر انسان نے اسے اٹھا لیا، بے شک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے
English (Sahih International)
Indeed, we offered the Trust to the heavens and the earth and the mountains, and they declined to bear it and feared it; but man [undertook to] bear it. Indeed, he was unjust and ignorant
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 72 { اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ } ”ہم نے اس امانت کو پیش کیا آسمانوں پر اور زمین پر اور پہاڑوں پر“ { فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَہَا وَاَشْفَقْنَ مِنْہَا } ”تو ان سب نے انکار کردیا اس کو اٹھانے سے اور وہ اس سے ڈر گئے“ { وَحَمَلَہَا الْاِنْسَانُ اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوْمًا جَہُوْلًا } ”اور انسان نے اسے اٹھا لیا۔ یقینا وہ بڑا ظالم اور بڑا نادان تھا۔“ یعنی انسان نے ایک بھاری ذمہ داری قبول کر کے اپنے اوپر ظلم کیا اور بڑی نادانی کا ثبوت دیا۔ مذکورہ امانت کے بارے میں بہت سی آراء ہیں اور ہر رائے کے بارے میں مفسرین نے اپنے اپنے دلائل بھی دیے ہیں۔ یہاں ان تمام آراء کا ذکر کرنا اور ایک ایک کے بارے میں دلائل کا جائزہ لینا تو ممکن نہیں ‘ البتہ اس حوالے سے میں اپنی رائے بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں جس کے بارے میں مجھے پورا وثوق ہے۔ میرے نزدیک اللہ کی امانت سے مراد یہاں وہ ”روح“ ہے جو انسان کے حیوانی وجود میں اللہ تعالیٰ نے بطور خاص پھونک رکھی ہے۔ انسان کا مادی وجود عالم خلق کی چیز ہے ‘ جبکہ ”روح“ کا تعلق عالم ِامر سے ہے۔ عالم خلق اور عالم امر کی وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو : سورة الاعراف ‘ تشریح آیت 54۔ اللہ تعالیٰ نے عالم امر کی اس ”امانت“ کو عالم خلق کے مادی اور حیوانی وجود کے اندر رکھتے ہوئے اسے خاص اپنی طرف منسوب فرمایا ہے : { وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ } سورۃ الحجر : 29 اور سورة ص : 72۔ چناچہ اسی روح کی بنا پر انسان مسجودِ ملائک ٹھہرا ‘ اسی کے باعث اسے خلافت کا اعزاز ملا اور اسی کی وجہ سے انسان کا سینہ ”مہبط ِوحی“ بنا۔ وحی کا تعلق چونکہ عالم امر سے ہے اور وحی کا حامل فرشتہ بھی عالم امر کی مخلوق ہے ‘ اس لحاظ سے انسان اپنے مادی وجود کے ساتھ فرشتے کے ذریعے وحی کو وصول کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا۔ لہٰذایہ روح ہی ہے جس نے اسے نزول وحی کے تجربے کو برداشت کرنے کے قابل بنایا۔ جنات کے اندر چونکہ یہ روح نہیں ہے اس لیے وہ وحی کے حصول reception کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ جنات کے ہاں کوئی نبی نہیں آیا اور ان کے لیے نبوت کے حوالے سے انسانوں انبیاء کی پیروی لازم قرار پائی۔ اس نکتے کو مزید اس طرح سمجھئے کہ یہاں ”ظَلُوْمًا جَہُوْلًا“ کے الفاظ میں انسان کے حیوانی وجود کی اس کمزوری کا ذکر ہوا ہے جو اس کے اندر روح پھونکے جانے سے پہلے پائی جاتی تھی۔ اسی کمزوری کو سورة الانبیاء کی آیت 37 میں { خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍط } اور سورة النساء میں { وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا۔ } کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ کمزوری بہر حال ”نفخ روح“ سے پہلے کے انسان میں تھی۔ لیکن روح ربانی کی امانت ودیعت ہوجانے کے بعد اس کا رتبہ اس قدر بلند ہوا کہ وہ مسجودِ ملائک بن گیا۔ انسانی تخلیق کے ان دونوں مراحل کا ذکر سورة التین میں یوں فرمایا گیا ہے : { لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ۔ ثُمَّ رَدَدْنٰــہُ اَسْفَلَ سَافِلِیْنَ۔ ”یقینا ہم نے پیدا کیا انسان کو بہترین شکل و صورت میں۔ پھر ہم نے اس کو لوٹا دیا نچلوں میں سب سے نیچے۔“ یعنی جب ارواح کی صورت میں انسانوں کو پیدا کیا گیا تو وہ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ کے مرتبے کی مخلوق تھی ‘ مگر جب اسے دنیا میں بھیجا گیا تو یہ اپنے جسد ِحیوانی کی کمزوریوں کے سبب جنات سے بھی نیچے چلا گیا۔ بہر حال میرے نزدیک یہاں جس امانت کا ذکر ہوا ہے وہ انسان کی روح ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے جسد خاکی میں رکھی گئی ہے اور یہی وہ امانت ہے جس کی بنا پر اس کا احتساب ہوگا۔ جس انسان نے اس امانت کا حق ادا کیا وہ آخرت میں : { فَرَوْحٌ وَّرَیْحَانٌ لا وَّجَنَّتُ نَعِیْمٍ۔ } الواقعہ سے نوازا جائے گا۔ یعنی اس کے لیے راحت اور خوشبو اور نعمتوں کے باغ کی ضیافت ہوگی۔ اس کے برعکس جو کوئی حیوانی خواہشات و داعیات کا اتباع کرتا رہا اور یوں اس امانت میں خیانت کا مرتکب ہوا وہ گویا حیوان ہی بن کر رہ گیا۔ چناچہ اس کو وہاں { فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِیْمٍ۔ وَّتَصْلِیَۃُ جَحِیْمٍ۔ } الواقعہ کے انجام سے دوچار ہونا پڑے گا۔ یعنی آخرت میں کھولتے پانی کی مہمانی اور جہنم کے عذاب کی زندگی اس کی منتظر ہوگی۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 72 and 73.
امانت سے مراد اختیا رہے۔ اختیار کو امانت اس ليے فرمایا کہ وہ اللہ کی ایک چیز ہے جس کو اس نے عارضی مدت کےلیے انسان کو بطور آزمائش دیا ہے تاکہ انسان خود اپنے ارادہ سے خدا کا تابع دار بنے۔ امانت، دوسرے لفظوں میں، اپنے اوپر خدا کا قائم مقام بننا ہے۔ اپنے آپ پروہ کرنا ہے جو خدا ستاروں اور سیاروں پر کررہا ہے۔ یعنی اپنے اختیار سے اپنے آپ کو خدا کے کنٹرول میں دے دینا۔
اس کائنات میں صرف اللہ حاکم ہے اور تمام چیزیں اسی کی محکوم ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کی مرضی ہوئی کہ وہ ایک ایسی آزاد مخلوق پیدا کرے جو کسی جبر کے بغیر خود اپنے اختیار سے وہی کرے جو خدا اس سے کروانا چاہتا ہے۔ یہ اختیاری اطاعت بڑی نازک آزمائش تھی۔ آسمان اور زمین اور پہاڑ بھی اس کا تحمل نہیں کرسکتے۔ تاہم انسان نے شدید اندیشہ کے باوجود اس کو قبول کرلیا۔ اب انسان موجودہ دنیا میں خدا کی ایک امانت کا امین ہے۔ اس کو اپنے اوپر وہی کرنا ہے جو خدا دوسری چیزوں پر کررہا ہے۔ انسان کو اپنے آپ پر خدا کا حکم چلانا ہے۔ انسان حالتِ امتحان میں ہے اور موجودہ دنیا اس کےلیے وسیع امتحان گاہ۔
یہ امانت ایک بے حد نازک ذمہ داری ہے۔ کیونکہ اسی کی وجہ سے جزا وسزا کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ دوسری مخلوقات مجبور ومقہور ہیں۔ اس ليے ان کے واسطے جزا وسزا کا مسئلہ نہیں۔ انسان آزاد ہے۔ اس ليے وہ جزا و سزا کا مستحق بنتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امانت کو آدم کے سامنے پیش کیا۔ تو آدم نے پوچھا که امانت کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اگر تم اچھا کروگے تو تم کو اس کا بدلہ ملے گا اور اگر تم برا کروگے تو تم کو سزا دی جائے گی (إِنْ أَحْسَنْتَ جُزِيتَ، وَإِنْ أَسَأْتَ عُوقِبْتَ) تفسیر الطبری، جلد 20، صفحہ
338
۔