Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ ءَاذَوۡاْ مُوسَىٰ فَبَرَّأَهُ ٱللَّهُ مِمَّا قَالُواْۚ وَكَانَ عِندَ ٱللَّهِ وَجِيهٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اُن لوگوں کی طرح نہ بن جاؤ جنہوں نے موسیٰؑ کو اذیتیں دی تھیں، پھر اللہ نے اُن کی بنائی ہوئی باتوں سے اُس کی برأت فرمائی اور وہ اللہ کے نزدیک با عزت تھا
English (Sahih International)
O you who have believed, be not like those who abused Moses; then Allah cleared him of what they said. And he, in the sight of Allah, was distinguished
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 69 { یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰی } ”اے اہل ِایمان ! تم ان لوگوں کی مانند نہ ہوجانا جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام ٰ کو اذیت دی تھی“ { فَـبَرَّاَہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوْا وَکَانَ عِنْدَ اللّٰہِ وَجِیْہًا } ”تو اللہ نے اس کو بری ثابت کردیا اس بات سے جو انہوں نے کہی تھی ‘ اور وہ اللہ کے نزدیک بڑے مرتبے والا تھا۔“ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی قوم بنی اسرائیل کی طرف سے کئی طرح کی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ سورة الصف میں آپ علیہ السلام کے وہ الفاظ نقل ہوئے ہیں جو آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کے طرزعمل پر شکوہ کرتے ہوئے فرمائے تھے : { یٰـقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ وَقَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْط } آیت 5 ”اے میری قوم ! تم مجھے کیوں اذیت دیتے ہو درآنحالیکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں !“ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی قوم کی طرف سے سب سے بڑی اذیت کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب آپ علیہ السلام نے قوم کو اللہ کے راستے میں قتال کرنے کا حکم دیا تو سوائے دو اشخاص کے پوری قوم نے انکار کردیا۔ قوم کے اس طرز عمل پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جو کو فت اور اذیت محسوس کی اس کا اندازہ اس دعا سے کیا جاسکتا ہے جو آپ علیہ السلام نے اس موقع پر اللہ تعالیٰ سے کی : { قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ اِلاَّ نَفْسِیْ وَاَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۔ المائدۃ ”انہوں علیہ السلام نے عرض کیا : اے میرے پروردگار ! مجھے تو اختیار نہیں ہے سوائے اپنی جان کے اور اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کی جان کے ‘ تو اب تفریق کردے ہمارے اور ان ناہنجار لوگوں کے درمیان۔“ اس کے علاوہ آپ علیہ السلام پر ذاتی نوعیت کا ایک الزام لگا کر بھی آپ علیہ السلام کو سخت اذیت پہنچائی گئی۔ اس حوالے سے احادیث میں ایک واقعہ بہت تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ اس واقعہ کا ُ لب ّلباب یہ ہے کہ اس زمانے میں عام طور پر مرد اپنے ستر کو چھپانے کا خاص اہتمام نہیں کرتے تھے اور سر ِعام برہنہ نہانے میں بھی عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ اس کے برعکس حضرت موسیٰ علیہ السلام اس بارے میں غیر معمولی طور پر احتیاط سے کام لیتے تھے۔ اس پر لوگوں نے کہنا شروع کردیا کہ آپ علیہ السلام جسمانی طور پر کسی عیب یا مرض میں مبتلا ہیں جس کو چھپانے کے لیے آپ علیہ السلام اس قدر شرم و حیا کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے ایک خاص ترکیب کے ذریعے لوگوں پر واضح کردیا کہ ان کا یہ الزام جھوٹا اور بےبنیاد تھا۔ سورة النور میں ہم حضرت عائشہ رض پر منافقین کی طرف سے بہتان تراشی کا وہ واقعہ بھی پڑھ چکے ہیں جو حضور ﷺ کے لیے سخت اذیت کا باعث بنا تھا۔ چناچہ یہاں تمام افرادِ امت کو خبردار کیا جارہا ہے کہ دیکھو ! تم بھی کہیں بنی اسرائیل کے ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو اپنے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مختلف طریقوں سے تنگ کیا کرتے تھے۔ تمہارا کوئی عمل یا قول ایسا نہیں ہونا چاہیے جس کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 69 to 71.
’’یہودیوں کی طرح پیغمبر کو نہ ستاؤ‘‘ سے کیا مراد ہے، اس کی وضاحت ایک واقعہ سے ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تھے کہ ایک بار آپ کے پاس کچھ مال آیا۔ آپ نے اس کو لوگوں کے درمیان تقسیم کیا۔ اس کے بعد انصارمیں سے ایک شخص نے دوسرے شخص سے کہا خدا کی قسم محمد نے اس تقسیم سے اللہ کی رضا اور آخرت کا گھر نہیں چاہا ہے (وَاللَّهِ مَا أَرَادَ مُحَمَّدٌ بِقِسْمَتِهِ الَّتِي قَسَمَهَا وَجْهَ اللَّهِ وَلَا الدَّارَ الآخِرَةَ) سنن الترمذی، حدیث نمبر 3896۔ اس واقعہ کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تو آپ نے فرمایا کہ اللہ کی رحمت موسیٰ پر ہو۔ ان کو اس سے زیادہ اذیت دی گئی مگر انھوں نے صبر کیا (رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى مُوسَى، لَقَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 4335
کلام کی دوقسمیں ہیں۔ ایک ہے سدید کلام۔ دوسرا ہے غیر سدید کلام۔ سدید کلام وہ ہے جو عین مطابقِ حقیقت ہو۔ جو واقعاتی تجزیہ پر مبنی ہو۔ جو ٹھوس دلائل کے ساتھ پیش کیا جائے۔ اس کے برعکس، غیر سدید کلام وہ ہے جس میں حقیقت کی رعایت شامل نہ ہو۔ جس کی بنیاد ظن وگمان پر قائم ہو جس کی حیثیت محض رائے زنی کی ہو، نہ کہ حقیقتِ واقعہ کے اظہار کی۔ اول الذکر کلام مومنانہ کلام ہے اور ثانی الذکر کلام منافقانہ کلام۔