Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 33:5 Prev 33:3


Arabic

مَّا جَعَلَ ٱللَّهُ لِرَجُلٖ مِّن قَلۡبَيۡنِ فِي جَوۡفِهِۦۚ وَمَا جَعَلَ أَزۡوَٰجَكُمُ ٱلَّـٰٓـِٔي تُظَٰهِرُونَ مِنۡهُنَّ أُمَّهَٰتِكُمۡۚ وَمَا جَعَلَ أَدۡعِيَآءَكُمۡ أَبۡنَآءَكُمۡۚ ذَٰلِكُمۡ قَوۡلُكُم بِأَفۡوَٰهِكُمۡۖ وَٱللَّهُ يَقُولُ ٱلۡحَقَّ وَهُوَ يَهۡدِي ٱلسَّبِيلَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اللہ نے کسی شخص کے دھڑ میں دو دِل نہیں رکھے ہیں، نہ اس نے تم لوگوں کی اُن بیویوں کو جن سے تم ظہار کرتے ہو تمہاری ماں بنا دیا ہے، اور نہ اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا بنایا ہے یہ تو وہ باتیں ہیں جو تم لوگ اپنے منہ سے نکال دیتے ہو، مگر اللہ وہ بات کہتا ہے جو مبنی بر حقیقت ہے، اور وہی صحیح طریقے کی طرف رہنمائی کرتا ہے


English (Sahih International)

Allah has not made for a man two hearts in his interior. And He has not made your wives whom you declare unlawful your mothers. And he has not made your adopted sons your [true] sons. That is [merely] your saying by your mouths, but Allah says the truth, and He guides to the [right] way


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 4 { مَا جَعَلَ اللّٰہُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِہٖ } ”اللہ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں رکھے۔“ جوف کے معنی خالی جگہ کے ہیں اور یہاں اس سے سینے کا اندرونی حصہ chest cavity مراد ہے جس کے بائیں جانب دل ہوتا ہے۔ یعنی ہر انسان کے سینے میں اللہ نے ایک ہی دل رکھا ہے۔ اور اگر محاورۃً یوں کہا جائے کہ فلاں اور فلاں کے دل یکجا ہوگئے ہیں یا فلاں کا دل فلاں کے دل سے مل گیا ہے تو محض اس طرح کہہ دینے سے کسی کے سینے کے اندر حقیقت میں دو دل نہیں ہوجاتے۔ چناچہ جس طرح یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی انسان کے سینے میں دو دل نہیں بنائے ‘ اسی طرح یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی شخص کی دو مائیں نہیں ہوتیں۔ کسی شخص کی ماں صرف وہی ہے جس نے اسے جنم دیا اور کسی انسان کا باپ صرف وہی ہے جس کے صلب سے وہ پیدا ہوا۔ { وَمَا جَعَلَ اَزْوَاجَکُمُ الّٰیِْٔ تُظٰہِرُوْنَ مِنْہُنَّ اُمَّہٰتِکُمْ } ”اور نہ اس نے تمہاری ان بیویوں کو تمہاری مائیں بنایا ہے جن سے تم ظہار کر بیٹھتے ہو۔“ ”ظِھار“ عرب کے دور جاہلیت کی ایک اصطلاح ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے ناراض ہو کر کبھی یوں کہہ دیتا کہ اَنْتِ عَلَیَّ کَظَھْرِ اُمِّیْ اب تو میرے اوپر اپنی ماں کی پیٹھ کی طرح حرام ہے تو اب اسے طلاق مغلظ ّدر مغلظ شمار کیا جاتا اور اس کی بیوی اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتی۔ یہاں اس خودساختہ تصور کی نفی کردی گئی کہ تم میں سے کسی کے اپنی بیوی کو ماں کہہ دینے یا ماں کے ساتھ تشبیہہ دے دینے سے وہ اس کی ماں نہیں بن جاتی۔ ”ظہار“ کے بارے میں واضح احکام سورة المجادلہ پارہ 28 کی ابتدائی آیات میں دیے گئے ہیں۔ { وَمَا جَعَلَ اَدْعِیَآئَ کُمْ اَبْنَآئَ کُمْ } ”اور نہ ہی اس نے تمہارے ُ منہ بولے بیٹوں کو تمہارے بیٹے بنایا ہے۔“ { ذٰلِکُمْ قَوْلُکُمْ بِاَفْوَاہِکُمْ } ”یہ سب تمہارے اپنے ُ منہ کی باتیں ہیں۔“ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمہاری ان خود ساختہ باتوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ کسی کی ماں صرف وہی ہے جس نے اسے جنم دیا ہے اور کسی شخص کا بیٹا بھی صرف وہی ہے جو اس کے ُ صلب سے پیدا ہوا۔ فقط کسی کے کہہ دینے سے کوئی عورت کسی کی ماں نہیں بن جاتی اور کسی کے زبانی دعویٰ سے کوئی کسی کا بیٹا نہیں بن جاتا۔ { وَاللّٰہُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَہُوَ یَہْدِی السَّبِیْلَ } ”اور اللہ حق کہتا ہے اور وہی سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 4 and 5.

آدمی کے سینے میں دو دل نہ ہونا بتاتا ہے کہ تضاد فکری خدا کے تخلیقی منصوبہ کے خلاف ہے۔جب انسان کو ایک دل دیاگیا تو اس کی سوچ بھی ایک ہوني چاہيے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک ہی دل میں بیک وقت اخلاص بھی ہو اور نفاق بھی، خدا پرستی بھی ہو اور زمانہ پرستی بھی، انصاف بھی ہو اور ظلم بھی، گھمنڈ بھی ہو اور تواضع بھی۔ آدمی دونوں میں سے کوئی ایک ہی ہوسکتا ہے اور اس کو ایک ہی ہونا چاہيے۔

یہ ایک اصولی بات ہے۔ اسی کے تحت زمانۂ جاہلیت کی رسمیں مثلاًظِہار و تبنیت آتی ہیں۔ عرب جاہلیت کا ایک رواجی قانون یہ تھاکہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہہ دے کہ أنْتِ عَلَيَّ كظَهْر أمِّي (تو میرے اوپر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے) تو اس کی بیوی اس کے اوپر ہمیشہ کےلیے حرام ہوجاتی تھی جس طرح کسی کی ماں اس کےلیے حرام ہوتی ہے۔ اس کو ظِہار کہتے ہیں۔ اسی طرح متبنّی (منھ بولے بیٹے) کے معاملے میں بھی ان کا عقیدہ تھا کہ وہ بالکل صلبی بیٹے کی طرح ہوجاتا ہے۔ اس کو ہر معاملہ میں وہی درجہ دے دیاگیا تھاجو حقیقی اولاد کا ہوتاہے۔ قرآن نے اس رواج کو بالکل ختم کردیا۔ قرآن میں اعلان کیاگیا کہ یہ تخلیقی نظام کے سراسر خلاف ہے کہ حقیقی ماں اور زبان سے کہی ہوئی ماں یا حقیقی بیٹا اور منھ بولا بیٹا دونوں کی حیثیت بالکل ایک ہوجائے۔

آدمی اگر بے خبری میں کوئی غلطی کرے تو وہ خدا کے یہاں قابلِ معافی ہے۔ مگر جب کسی معاملہ کی حقیقت پوری طرح واضح ہو جائے، اس کے باوجود آدمی اپنی غلط روش کو نہ چھوڑے تو اس کے بعد وہ قابلِ معافی نہیں رہتا۔


Connections

  • Previous: 33_3
  • Next: 33_5
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes