Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 33:39 Prev 33:37


Arabic

مَّا كَانَ عَلَى ٱلنَّبِيِّ مِنۡ حَرَجٖ فِيمَا فَرَضَ ٱللَّهُ لَهُۥۖ سُنَّةَ ٱللَّهِ فِي ٱلَّذِينَ خَلَوۡاْ مِن قَبۡلُۚ وَكَانَ أَمۡرُ ٱللَّهِ قَدَرٗا مَّقۡدُورًا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

نبی پر کسی ایسے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کر دیا ہو یہی اللہ کی سنت ان سب انبیاء کے معاملہ میں رہی ہے جو پہلے گزر چکے ہیں اور اللہ کا حکم ایک قطعی طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے


English (Sahih International)

There is not to be upon the Prophet any discomfort concerning that which Allah has imposed upon him. [This is] the established way of Allah with those [prophets] who have passed on before. And ever is the command of Allah a destiny decreed


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 38 { مَا کَانَ عَلَی النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰہُ لَہٗ } ”نبی ﷺ پر کوئی مضائقہ نہیں اس بات میں جو اللہ نے اس کے لیے فرض کردی ہے۔“ { سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ } ”اللہ کا یہی طریقہ رہا ہے ان لوگوں کے بارے میں بھی جو پہلے گزر چکے ہیں۔“ تمام نبیوں اور رسولوں علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہی طریقہ رہا ہے کہ جو چیز ان پر فرض کردی جاتی تھی اس پر انہیں عمل کرنا ہوتا تھا۔ { وَکَانَ اَمْرُ اللّٰہِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا } ”اور اللہ کا فیصلہ قطعی طے شدہ تھا۔“ یہ سارا معاملہ اللہ کی مشیت میں پہلے سے طے ہوچکا تھا اور اس فیصلے کی تنفیذ کے لیے وقت مقرر کیا جا چکا تھا۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 38 to 40.

اِس واقعہ کے بعد حسب توقع آپ کے خلاف زبردست پروپیگنڈا شروع ہوگیا۔ کہا جانے لگا کہ پیغمبر نے اپنی بہو سے نکاح کرلیا، حالانکہ بیٹے کی منکوحہ باپ پر حرام ہوتی ہے۔ فرمایا کہ — محمد کا معاملہ تویہ ہے کہ ان کی صرف لڑکیاں ہیں۔ وہ مردوں میں سے کسی کے باپ ہی نہیں۔ زید بن حارثہ ان کے صرف منھ بولے بیٹے تھے اور منھ بولا بیٹا واقعی بیٹا کیسے ہوسکتا ہے کہ اس کے مطلقہ سے نکاح آپ کے لیے جائز نہ ہو۔

آپ خدا کے پیغمبر تھے، پھر بھی آپ کے ساتھ اتنے اتار چڑھاؤ کے واقعات کیوں پیش آئے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ پیغمبر پر اگرچہ خدا کی وحی آتی ہے۔ مگر اس کو عام انسانوں کی طرح رہنا ہوتاہے۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں اس کو بھی ویسے ہی حالات پیش آتے ہیں جیسے حالات دوسروں کو پیش آتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو پیغمبر کی زندگی عام انسانوں پر حجت نہ بن سکے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبرانہ رہنمائی حقیقی حالات کے ڈھانچہ میں دی جاتی ہے، نہ کہ مصنوعی حالات کے ڈھانچہ میں۔

خاتم النبیین کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ آپ نبیوں کی مہر ہیں۔ خاتم کا لفظ اسٹيمپ (stamp) کےلیے نہیں آتا ہے بلکہ سیل (seal) کےلیے آتا ہے،یعنی آخری عمل۔ لفافہ کو سیل کرنے کا مطلب اس کو آخری طورپر بند کرنا ہے کہ اس کے بعد نہ کوئی چیز اس کے اندر سے باہر نکلے اور نہ باہر سے اندر جائے۔ چنانچہ عربي میں قوم کا خاتم قوم کے آخری شخص کو کہا جاتا ہے (خاتِمُ القَوْم آخرُهم) لسان العرب، جلد

12

، صفحہ

164

۔اس واقعہ کے ذیل میں آپ کے خاتم النبیین ہونے کے اعلان کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد چونکہ کوئی اور نبی آنے والا نہیں، اس ليے ضروری ہے کہ تمام خدائی باتوں کا اظہار آپ کے ذریعہ سے کردیا جائے۔


Connections

  • Previous: 33_37
  • Next: 33_39
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes