Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 33:19 Prev 33:17


Arabic

۞قَدۡ يَعۡلَمُ ٱللَّهُ ٱلۡمُعَوِّقِينَ مِنكُمۡ وَٱلۡقَآئِلِينَ لِإِخۡوَٰنِهِمۡ هَلُمَّ إِلَيۡنَاۖ وَلَا يَأۡتُونَ ٱلۡبَأۡسَ إِلَّا قَلِيلًا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اللہ تم میں سے اُن لوگوں کو خوب جانتا ہے جو (جنگ کے کام میں) رکاوٹیں ڈالنے والے ہیں، جو اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ “آؤ ہماری طرف” جو لڑائی میں حصہ لیتے بھی ہیں تو بس نام گنانے کو


English (Sahih International)

Already Allah knows the hinderers among you and those [hypocrites] who say to their brothers, “Come to us,” and do not go to battle, except for a few


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 18 { قَدْ یَعْلَمُ اللّٰہُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْکُمْ } ”اللہ خوب جانتا ہے تم میں سے ان لوگوں کو جو روکنے والے ہیں“ جیسا کہ قبل ازیں وضاحت کی جا چکی ہے کہ مدینہ کی دو اطراف تو قدرتی رکاوٹوں کی وجہ سے محفوظ تھیں ‘ جبکہ عقب میں بنو قریظہ کی گڑھیاں تھیں اور جب تک انہوں نے معاہدے کی اعلانیہ خلاف ورزی نہیں کی تھی تب تک ان کی طرف سے بھی بظاہر کوئی خطرہ نہیں تھا۔ چناچہ مسلمانوں کی اکثریت حملہ آور لشکر کے سامنے خندق کی اندرونی جانب مورچہ بند تھی اور جنگ کا اصل محاذ وہی مقام تھا۔ منافقین نہ صرف خود اس محاذ کی طرف جانے سے کتراتے تھے بلکہ دوسروں کو بھی روکتے تھے کہ اس طرف مت جائو۔ { وَالْقَآئِلِیْنَ لِاِخْوَانِہِمْ ہَلُمَّ اِلَیْنَاج } ”اور اپنے بھائیوں سے یہ کہنے والے ہیں کہ ہماری طرف آ جائو !“ وہ اپنے دوسرے بھائی بندوں کو بھی ناصحانہ انداز میں سمجھاتے تھے کہ ہمارے پاس آ جائو اور ہماری طرح تم بھی اپنے گھروں میں چھپے رہو اور محاذ کی طرف مت جائو۔ { وَلَا یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِیْلًا } ”اور وہ نہیں آتے جنگ کی طرف مگر بہت تھوڑی دیر کے لیے۔“ اگر وہ دکھاوے کے لیے محاذ جنگ پر آتے بھی تھے تو حیلے بہانوں سے واپس جانے کی فکر میں رہتے تھے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 18 to 20.

ایک آدمی وہ ہے جو قربانی کے وقت پیچھے رہ جائے تو اس پر شرمندگی طاری ہوتی ہے۔ اس کا بولنا بند ہوجاتا ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو قربانی کے وقت قربانی نہیں دیتا۔ اور پھر دوسروں کو بھی اس سے روکتا ہے۔ یہ کوتاہی پر ڈھٹائی کا اضافہ ہے۔ کوتاہی قابل معافی ہوسکتی ہے مگر ڈھٹائی قابلِ معافی نہیں۔

جن لوگوں کے اندر ڈھٹائی کی نفسیات ہو وہ بظاہر کوئی اچھا عمل کریں تب بھی وہ بے قیمت ہیں۔ کیوں کہ عمل کی اصل روح اخلاص ہے اور وہی ان کے اندر موجود نہیں۔

دین کےلیے قربانی نہ دینا ہمیشہ دنیا کی محبت میں ہوتاہے۔ آدمی اپنی دنیا کو بچانے کےلیے اپنے دین کو کھو دیتاہے۔ اس ليے ایسے لوگ جہاں دیکھتے ہیں کہ دین میں دنیا کا فائدہ بھی جمع ہوگیا ہے تو وہاں وہ خوب اپنے بولنے کا کمال دکھاتے ہیں، تاکہ دین کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تعلق ظاہر کرکے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرسکیں مگر جہاں دین کا مطلب قربانی ہو وہاں دین دار بننے سے انھیں کوئی دل چسپی نہیں ہوتی۔


Connections

  • Previous: 33_17
  • Next: 33_19
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes