Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
قُل لَّن يَنفَعَكُمُ ٱلۡفِرَارُ إِن فَرَرۡتُم مِّنَ ٱلۡمَوۡتِ أَوِ ٱلۡقَتۡلِ وَإِذٗا لَّا تُمَتَّعُونَ إِلَّا قَلِيلٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اے نبیؐ! ان سے کہو، اگر تم موت یا قتل سے بھاگو تو یہ بھاگنا تمہارے لیے کچھ بھی نفع بخش نہ ہو گا اس کے بعد زندگی کے مزے لوٹنے کا تھوڑا ہی موقع تمہیں مل سکے گا
English (Sahih International)
Say, [O Muhammad], “Never will fleeing benefit you if you should flee from death or killing; and then [if you did], you would not be given enjoyment [of life] except for a little
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 16{ قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَکُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ } ”اے نبی ﷺ ! ان سے کہہ دیجیے کہ تمہارا یہ بھاگنا تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا ‘ اگر تم لوگ موت یا قتل سے بھاگ رہے ہو“ موت سے بھلا کوئی کیسے بھاگ سکتا ہے ؟ موت تو ہر جگہ اپنے شکار کا پیچھا کرسکتی ہے۔ { وَاِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا } ”اور اگر بھاگو گے تب بھی تم زندگی کے سازوسامان سے فائدہ نہیں اٹھا سکو گے مگر تھوڑا سا۔“ اگر وقتی طور پر کوئی شخص ایک جگہ سے بھاگ کر اپنی جان بچا نے میں کامیاب ہو بھی جائے تو بھی وہ ہمیشہ کے لیے محفوظ تو نہیں ہوسکتا۔ اس کی یہ کوشش اسے اس سے زیادہ بھلا کیا فائدہ پہنچا سکتی ہے کہ کچھ عرصہ وہ مزید جی لے گا۔ آخر ایک نہ ایک دن تو اسے موت کے منہ میں جانا ہی ہے۔ وہ دنیا کی زندگی کا بس اسی قدر لطف اٹھا سکتا ہے جتنا اس کے لیے مقدر ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 33:9.