Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
أَمۡ يَقُولُونَ ٱفۡتَرَىٰهُۚ بَلۡ هُوَ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكَ لِتُنذِرَ قَوۡمٗا مَّآ أَتَىٰهُم مِّن نَّذِيرٖ مِّن قَبۡلِكَ لَعَلَّهُمۡ يَهۡتَدُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اِسے خود گھڑ لیا ہے؟ نہیں، بلکہ یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے تاکہ تو متنبہ کرے ایک ایسی قوم کو جس کے پاس تجھ سے پہلے کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا، شاید کہ وہ ہدایت پا جائیں
English (Sahih International)
Or do they say, “He invented it”? Rather, it is the truth from your Lord, [O Muhammad], that you may warn a people to whom no warner has come before you [so] perhaps they will be guided
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 3 اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰٹہُ ج بَلْ ہُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰٹہُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِکَ لَعَلَّہُمْ یَہْتَدُوْنَ ”اہل مکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔ ان کے لیے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے لے کر حضور ﷺ تک طویل عرصے کے دوران کوئی نبی یا رسول نہیں آیا۔ اس آیت میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 32:1.