Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 32:11 Prev 32:9


Arabic

وَقَالُوٓاْ أَءِذَا ضَلَلۡنَا فِي ٱلۡأَرۡضِ أَءِنَّا لَفِي خَلۡقٖ جَدِيدِۭۚ بَلۡ هُم بِلِقَآءِ رَبِّهِمۡ كَٰفِرُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور یہ لوگ کہتے ہیں: “جب ہم مٹی میں رَل مِل چکے ہوں گے تو کیا ہم پھر نئے سرے سے پیدا کیے جائیں گے؟” اصل بات یہ ہے کہ یہ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں


English (Sahih International)

And they say, “When we are lost within the earth, will we indeed be [recreated] in a new creation?” Rather, they are, in [the matter of] the meeting with their Lord, disbelievers


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

This commentary covers ayaat 10 and 11.

آیت 10 وَقَالُوْٓا ءَ اِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَ اِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ ط اس اعتراض کے حوالے سے پرانے زمانے کے کفار کا انداز گفتگو تو سیدھا سادہ تھا کہ جب ہم مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں گے تو ہمیں کیسے دوبارہ جلا اٹھایا جائے گا ؟ لیکن آج کا روشن خیال نوجوان اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا کر یوں پیش کرتا ہے کہ جب ہمارے جسموں کے ایٹمز atoms بھی منتشر ہوجائیں گے ‘ جب ہم مٹی میں مل کر کھاد بن جائیں گے ‘ کھاد سے ہمارے ذرّات پودوں میں منتقل ہوجائیں گے ‘ ان پودوں کو جانور کھائیں گے اور پھر ان جانوروں سے نہ معلوم کس کس شکل میں ہمارے جسموں کے تحلیل شدہ atoms کہاں کہاں پہنچیں گے تو ایسی صورت میں انسانی اجسام کے گم گشتہ اجزاء کیونکر اکٹھے کیے جاسکیں گے ؟ ایسی دور کی کوڑی لانے سے پہلے ایسے احمقوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ جس اللہ نے پہلی مرتبہ زمینی اجزاء سے ان لوگوں کو ان کے وجودوں کے ساتھ پیدا کیا ہے ‘ کیا وہ انہیں دوبارہ پیدا نہیں کرسکے گا ؟بَلْ ہُمْ بِلِقَآیئ رَبِّہِمْ کٰفِرُوْنَ ۔دراصل یہ لوگ اپنے کرتوتوں کے سبب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کے تصور سے گریزاں ہیں۔ اس بنا پر وہ قیامت کے دن کی اس ملاقات ہی کو جھٹلانا چاہتے ہیں ‘ لیکن اس کے لیے بہانہ یہ بنا رہے ہیں کہ زمین میں گل سڑ جانے کے بعد انسانوں کا دوبارہ زندہ ہوجانا عقلی طور پر ممکن نظر نہیں آتا۔ اس کے برعکس اگر کوئی شخص صاحب ایمان ہے اور وہ اپنے دل میں اللہ کے لیے خلوص اور محبت کے جذبات رکھتا ہے تو اسے لازماً یہ امید ہوگی کہ اللہ اس کے ساتھ رحمت اور شفقت کا معاملہ فرمائے گا۔ ایسے شخص کو دل را بدل راہیست دل کو دل سے راہ ہوتی ہے کے مصداق اللہ تعالیٰ سے ملنے کا اشتیاق بھی ہوگا۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 10 to 14.

انسان کی تخلیقِ اول اس کی تخلیقِ ثانی کے معاملے کو سمجھنے کےلیے بالکل کافی ہے۔ مگر جب خدا کے سامنے جواب دہی کا یقین نہ ہو تو آدمی تخلیقِ ثانی کا مذاق اڑاتا ہے، وہ غیر سنجیدہ طورپر مختلف باتیں کرتا ہے۔

مگر یہ جسارت صرف اس وقت تک ہے جب تک آدمی کی امتحانی آزادی کی مدت ختم نہ ہوئی ہو۔ جب یہ مدت ختم ہوگی اور آدمی مر کر خدائے ذو الجلال کے سامنے حساب کےلیے کھڑا ہوگا تو اس کے سارے الفاظ گم ہو جائیں گے۔ اس وقت سرکش لوگ کہیں گے کہ ہم نے مان لیا۔ ہم کو دوبارہ زمین میں بھیج دیجيے تاکہ ہم نیک عمل کریں۔ مگر ان کا یہ ماننابے فائدہ ہوگا۔ خدا کو اگر اس طرح منوانا ہوتا تو وہ دنیا ہی میں لوگوں کو ماننے کے لیے مجبور کردیتا۔

خدا کے یہاں اس اعتراف کی قیمت ہے، جو بغیر دیکھے کیا گیا ہو۔ دیکھنے کے بعد جو اعتراف کیا جائے اس کی کوئی قیمت نہیں۔


Connections

  • Previous: 32_9
  • Next: 32_11
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes