Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَشۡتَرِي لَهۡوَ ٱلۡحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًاۚ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٞ مُّهِينٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور انسانوں ہی میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو کلام دلفریب خرید کر لاتا ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے علم کے بغیر بھٹکا دے اور اس راستے کی دعوت کو مذاق میں اڑا دے ایسے لوگوں کے لیے سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے
English (Sahih International)
And of the people is he who buys the amusement of speech to mislead [others] from the way of Allah without knowledge and who takes it in ridicule. Those will have a humiliating punishment
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 6 وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَہْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍق وَّیَتَّخِذَہَا ہُزُوًا ط ”یہاں خصوصی طور پر نضر بن حارث کے کردار کی طرف اشارہ ہے جو روسائے قریش میں سے تھا۔ دراصل نزول قرآن کے وقت عرب کے معاشرہ میں شعر و شاعری کا بہت چرچا تھا۔ ان کے عوام تک میں شعر کا ذوق پایا جاتا تھا اور اچھی شاعری اور اچھے شاعروں کی ہر کوئی قدر کرتا تھا۔ ایسے ماحول میں قرآن کریم جیسے کلام نے گویا اچانک کھلبلی مچا دی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے لوگ اس کلام کے گرویدہ ہونے لگے تھے ‘ اس کی فصاحت و بلاغت انہیں مسحور کیے دے رہی تھی۔ یہاں تک کہ جو شخص قرآن کو ایک بار سن لیتا وہ اسے بار بار سننا چاہتا۔ یہ صورت حال مشرکین کے لیے بہت تشویش ناک تھی۔ وہ ہر قیمت پر لوگوں کو اس کلام سے دور رکھنا چاہتے تھے اور دن رات اس کی اس ”قوت تسخیر“ کا توڑ ڈھونڈنے کی فکر میں تھے۔ چناچہ نضر بن حارث نے اپنے فہم کے مطابق اس کا حل یہ ڈھونڈا کہ وہ شام سے ناچ گانے والی ایک خوبصورت لونڈی خرید لایا اور اس کی مدد سے مکہ میں اس نے راتوں کو ناچ گانے کی محفلیں منعقد کرانا شروع کردیں۔ بظاہر یہ ترکیب بہت کامیاب اور مؤثر تھی کہ لوگ ساری ساری رات ناچ گانے سے لطف اندوز ہوں ‘ اس کے بعد دن کے بیشتر اوقات میں وہ سوتے رہیں اور اس طرح انہیں قرآن سننے یا اپنے اور اپنی زندگی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے کی کبھی فرصت ہی میسر نہ آئے۔یہاں ضمنی طور پر اس صورت حال کا تقابل آج کے اپنے معاشرے سے بھی کرلیں۔ مکہ میں تو ایک نضربن حارث تھا جس نے یہ کارنامہ سرانجام دیا تھا ‘ لیکن آج ہمارے ہاں سپورٹس میچز ‘ میوزیکل کنسرٹس concerts اور بےہودہ فلموں کی صورت میں لہو و لعب اور فحاشی و عریانی کا سیلاب بلا گھر گھر میں داخل ہوچکا ہے جو پورے معاشرے کو اپنی رو میں بہائے چلا جا رہا ہے۔ فحاشی و عریانی کے تعفنّ کا یہ زہر ہمارے نوجوانوں کی رگوں میں اس حد تک سرایت کرچکا ہے کہ بحیثیت مجموعی ان کے قلوب و اَذہان میں موت یا آخرت کی فکر سے متعلق کوئی ترجیح کہیں نظر ہی نہیں آتی۔ ان میں سے کسی کو الّا ما شاء اللہ اب یہ سوچنے کی فرصت ہی میسر نہیں کہ وہ کون ہے ؟ کہاں سے آیا ہے ؟ کس طرف جا رہا ہے ؟ اس کی زندگی کا مقصد و مآل کیا ہے ؟ اس کے ملک کے حالات کس رخ پر جا رہے ہیں اور اس ملک کا مستقبل کیا ہے ؟ اس سب کچھ کے مقابلے میں ذہن اقبالؔ کے ابلیس کی سوچ تو گویا بالکل ہی بےضرر تھی جس نے بقول اقبال ؔ مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے اپنے کارندوں کو یہ سبق پڑھایا تھا : مست رکھو ذکر و فکر صبح گا ہی میں اسے پختہ تر کر دو مزاج خانقاہی میں اسے !گویا اس دور میں ابلیس کو معلوم تھا کہ مسلمان کسی قیمت پر بھی ”عریاں الحاد“ کے جال میں پھنسنے والا نہیں۔ اس لیے وہ کھل کر سامنے آنے کی بجائے ”مزاج خانقاہی“ کا سہارا لے کر مسلمانوں کو ”شرع پیغمبر“ سے برگشتہ کرنے کا سوچتا تھا۔ مگر آج صورت حال یکسر مختلف ہے۔ آج ابلیس کی ”جدوجہد“ کی کرامت سے ”نوجواں مسلم“ اس قدر ”جدت پسند“ ہوچکا ہے کہ فحاشی و عریانی کے مظاہر کو وہ جدید فیشن اور نئی ترقی کا حصہ سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج میڈیا کے سٹیج پر ابلیسیت کوئی بہروپ بدلنے کا تکلفّ کیے بغیر اپنی اصل شکل میں برہنہ محو رقص ہے اور ہماری نئی نسل کے نوجوان بغیر کسی تردّد کے اپنی تمام ترجیحات کو بالائے طاق رکھ کر اس تماشہ کو دیکھنے میں رات دن مگن ہیں۔ گویا یہی ان کی زندگی ہے اور یہی زندگی کا مقصد و مآل !
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 6 to 9.
باتیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک نصیحت اور دوسري تفریح۔ نصیحت کی بات ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے۔ وہ آدمی سے کچھ کرنے اور کچھ نہ کرنے کےلیے کہتی ہے۔ اس ليے ہر دور میں بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جو نصیحت کی باتوں سے دلچسپی لیں۔ انسان کا عام مزاج ہمیشہ یہ رہا ہے کہ وہ تفریح کی باتوں کو زیادہ پسند کرتا ہے۔ وہ نصیحت کی ’’کتاب‘‘ کے مقابلہ میں اس کتاب کا زیادہ خریدار بنتا ہے جس میں اس کےلیے ذہنی تفریح کا سامان ہو اور وہ اس سے کچھ کرنے کےلیے نہ کہے۔
جس شخص کا حال یہ ہو کہ وہ اپنی ذات سے آگے بڑھ کر دوسروں کو اس قسم کی تفریحی باتوں میں مشغول کرنے لگے وہ زیادہ بڑا مجرم ہے۔ کیوں کہ وہ اس ذہنی بے راہ روی کا قائد بنا۔ اس نے لوگوں کے ذہن کو بے فائدہ باتوں میں مشغول کرکے انھیں اس قابل نہ رکھا کہ وہ زیادہ سنجیدہ باتوں میں دھیان دے سکیں۔
سب سے بری نفسيات گھمنڈ کی نفسیات ہے۔ جو شخص گھمنڈ کی نفسیات میں مبتلا ہو اس کے سامنے حق آئے گا مگر وہ اپنے کو بلند سمجھنے کی وجہ سے اس کا اعتراف نہیں کرے گا۔ وہ اس کو حقارت کے ساتھ نظر انداز کرکے آگے بڑھ جائے گا۔ اس کے برعکس معاملہ اہلِ ایمان کا ہے۔ ان کا نصیحت پسند مزاج انھیں مجبور کرتاہے کہ وہ سچائی کا اعتراف کریں، وہ اپنی زندگی کو تمام تر اس کے حوالہ کردیں۔