Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُم بِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ يُوقِنُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں
English (Sahih International)
Who establish prayer and give zakah, and they, of the Hereafter, are certain [in faith]
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 4 الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ ”اب یہاں محسنین کے اوصاف کا ذکر ہے اور ان کی پہلی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں۔وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ ”ان الفاظ کا ایک مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ لوگ اپنے تزکیے کے لیے مسلسل کوشاں رہتے ہیں۔ یاد رہے کہ سورة البقرۃ کی آیت 3 میں اس حوالے سے وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنْفِقُوْنَ کے الفاظ آئے ہیں ‘ جبکہ یہاں باقاعدہ ”زکوٰۃ“ کا لفظ آیا ہے۔وَہُمْ بالْاٰخِرَۃِ ہُمْ یُوْقِنُوْنَ ””ایمان بالآخرۃ“ کی اہمیت کے پیش نظر اس کے بارے میں خصوصیت کے ساتھ یہاں ”یقین“ کا ذکر ہوا ہے۔ دراصل آخرت کا عقیدہ وہ عامل factor ہے جو انسان کے عمل اور کردار پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن اس ضمن میں ایک بندۂ مسلمان سے یقین والے ایمان کا تقاضا کرتا ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 31:1.