Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
مَّا خَلۡقُكُمۡ وَلَا بَعۡثُكُمۡ إِلَّا كَنَفۡسٖ وَٰحِدَةٍۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعُۢ بَصِيرٌ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
تم سارے انسانوں کو پیدا کرنا اور پھر دوبارہ جِلا اُٹھانا تو (اُس کے لیے) بس ایسا ہے جیسے ایک متنفس کو (پیدا کرنا اور جِلا اٹھانا) حقیقت یہ ہے کہ اللہ سب کچھ سُننے اور دیکھنے والا ہے
English (Sahih International)
Your creation and your resurrection will not be but as that of a single soul. Indeed, Allah is Hearing and Seeing
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 28 مَا خَلْقُکُمْ وَلَا بَعْثُکُمْ اِلَّا کَنَفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ط ”پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی وسعت و عظمت کا تذکرہ تھا۔ اب اس وسیع و عریض کائنات کے انتظام و انصرام اور رنگا رنگ مخلوق کے معاملات کی نگرانی کا ذکر ہے کہ ان تمام امور کی نگہداشت اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔ جیسے آیت الکرسی سورۃ البقرۃ میں ارشاد ہوا : وَلاَ یَءُوْدُہٗ حِفْظُہُمَاج وَہُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ ”اور اس پر گراں نہیں گزرتی ان دونوں زمین و آسمان کی حفاظت ‘ اور وہ بلند وبالا ہے ‘ بڑی عظمت والا۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 28 to 30.
انسان اپنی ذات میں اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک زندگی کا وجود میں آنا ممکن ہے۔ اور جب ایک زندگی کا وجود ممکن ہو تو اسی قسم کی دوسری زندگیوں کا وجود میںآنا بدرجۂ اولیٰ ممکن ہوجاتاہے۔ اسی طرح ہر آدمی اس واقعہ کا تجربہ کررہا ہے کہ وہ ایک آواز کو سن سکتا ہے۔ وہ ایک منظر کو دیکھ سکتا ہے پھر جب ایک آواز کا سننا اور ایک منظر کا دیکھنا ممکن ہو تو بہت سی آوازوں کو سننا اور بہت سے مناظر کو دیکھنا ناممکن کیوں ہوگا۔
رات کو دن میں داخل کرنا اور دن کو رات میں داخل کرنا کنایہ کی زبان میںاس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جس کو موجودہ زمانہ میں زمین کی محوری گردش کہاجاتا ہے۔ اپنے محور پر کامل صحت کے ساتھ زمین کی مسلسل گردش اور اس طرح کے دوسرے واقعات بتاتے ہیں کہ اس کائنات کا خالق ومالک ناقابل قیاس حد تک عظیم ہے۔ ایسی حالت میں اس کے سواکون ہے جس کی عبادت کی جائے۔ جس کو اپنی زندگی میں بڑائی کا مقام دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک خدا کو چھوڑ کر جس کو بھی عظمت کا مقام دیا جاتا ہے وہ صرف ایک جھوٹ ہوتاہے۔ کیوں کہ ایک خدا کے سوا کسی کو کوئی عظمت حاصل نہیں۔