Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 30:31 Prev 30:29


Arabic

فَأَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفٗاۚ فِطۡرَتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِي فَطَرَ ٱلنَّاسَ عَلَيۡهَاۚ لَا تَبۡدِيلَ لِخَلۡقِ ٱللَّهِۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلۡقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

پس (اے نبیؐ، اور نبیؐ کے پیروؤں) یک سُو ہو کر اپنا رُخ اِس دین کی سمت میں جما دو، قائم ہو جاؤ اُس فطرت پر جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جا سکتی، یہی بالکل راست اور درست دین ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں


English (Sahih International)

So direct your face toward the religion, inclining to truth. [Adhere to] the fitrah of Allah upon which He has created [all] people. No change should there be in the creation of Allah. That is the correct religion, but most of the people do not know


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 30 فَاَقِمْ وَجْہَکَ للدِّیْنِ حَنِیْفًا ط ”تم اپنے کردار میں ایسی توحیدی شان پیدا کرو کہ تمہارا ایک ایک عمل گویا اس دعوے کی گواہی بن جائے : قُلْ اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ الانعام ”آپ ﷺ کہیے کہ میری نماز ‘ میری قربانی ‘ میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے“۔ اور دنیا کے تمام جھمیلوں کو چھوڑ کر اپنی توجہ ذات باری تعالیٰ کی طرف اس انداز سے مرکوز کردو کہ تمہاری زندگی کے شب و روز میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ان الفاظ کا رنگ جھلکتا نظر آئے : اِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ الانعام ”میں نے تو اپنا رخ کرلیا ہے یکسو ہو کر اس ہستی کی طرف جس نے آسمان و زمین کو بنایا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔“فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا ط ”یہی فطرت سلیمہ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی تخلیق کی ہے۔ نسل انسانی کا ہر بچہ اسی فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے والدین اس کی اس فطرت پر کچھ اور رنگ چڑھا دیتے ہیں یا اس کے ماحول کی وجہ سے اس کا رخ کسی اور طرف مڑ جاتا ہے۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے : کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ یُھَوِّدَانِہٖ اَوْ یُنَصِّرَانِہٖ اَوْ یُمَجِّسَانِہٖ 1”ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے ‘ پھر اس کے والدین اسے یہودی ‘ نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔“لاَ تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ ط ”یعنی اللہ کی بنائی ہوئی ساخت کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا۔ بعض مترجمین نے اس کا ترجمہ یوں بھی کیا ہے : ”اللہ کی بنائی ہوئی ساخت کو تبدیل نہ کیا جائے“۔ یا ”اللہ کی بنائی ہوئی فطرت کو تبدیل کرنا جائز نہیں ہے“۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جس فطرت پر انسان کو پیدا کیا ہے اس کو بگاڑنا اور مسخ کرنا جائز نہیں ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 30 to 32.

اصل دین ایک ہے۔ اور وہ ہر پیغمبر پر اپنی کامل شکل میں اترا ہے۔ وہ ہے ایک اللہ کی طرف رجوع، ایک اللہ کا ڈر، ایک اللہ کی پرستاری، ہمہ تن ایک اللہ کی طرف متوجہ ہوجانا، یہی دین فطرت ہے۔ یہ دین ابدی طورپر ہر انسان کی نفسیات میں سمویا ہوا ہے۔ تمام پیغمبروں نے اسی ایک دین کی تعلیم دی۔ مگر ان کے پیروؤں کی بعد کی نسلوں نے ایک دین کو کئی دین بنا ڈالا۔

کئی دین ہمیشہ ان اضافی بحثوں سے بنتا ہے جو بعد کے لوگ پیغمبروں کی ابتدائی تعلیمات میں پیدا کرتے ہیں۔ عقائد میں نو ایجاد موشگافیاں، عبادات میں خود ساختہ مسائل، زمانہ کے تاثرات کے تحت دین کی نئی نئی تعبیریں۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو بعد کے دور میں ایک دین کو کئی دین بنا دیتی ہیں۔ جب یہ اضافے وجود میں آتے ہیں تو لوگ اصل دین کے بجائے اپنے انھیں اضافوں پرسب سے زیادہ زور دینے لگتے ہیں جن کی بدولت وہ دوسرے گروہ سے جدا ہو کر الگ گروہ بنے ہیں۔ ایک گروہ ایک قسم کے اضافہ پر زور دیتاہے، اور دوسرا گروہ دوسرے قسم کے اضافہ پر۔ اس طرح بالآخر یہ نوبت آتی ہے کہ ایک دین کو ماننے والے عملاً کئی دینی گروہ میں بٹ کر رہ جاتے ہیں۔


Connections

  • Previous: 30_29
  • Next: 30_31
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes