Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 30:26 Prev 30:24


Arabic

وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦٓ أَن تَقُومَ ٱلسَّمَآءُ وَٱلۡأَرۡضُ بِأَمۡرِهِۦۚ ثُمَّ إِذَا دَعَاكُمۡ دَعۡوَةٗ مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ إِذَآ أَنتُمۡ تَخۡرُجُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں پھر جونہی کہ اُس نے تمہیں زمین سے پکارا، بس ایک ہی پکار میں اچانک تم نکل آؤ گے


English (Sahih International)

And of His signs is that the heaven and earth remain by His command. Then when He calls you with a [single] call from the earth, immediately you will come forth


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

This commentary covers ayaat 25 and 26.

آیت 25 وَمِنْ اٰیٰتِہٖٓ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَالْاَرْضُ بِاَمْرِہٖ ط ”ہماری زمین ‘ سورج ‘ نظام شمسی اور چھوٹے بڑے بیشمار ستاروں اور سیاروں کا ایک عظیم الشان اور لامتناہی نظام بھی اس کی قدرت کے مظاہر میں سے ہے۔ آج کا انسان جانتا ہے کہ اس نظام کے اندر ایسے ایسے ستارے بھی ہیں جن کے مقابلے میں ہمارے سورج کی جسامت کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔ یہ اتنے بڑے بڑے اجرام سماویہ اللہ ہی کے حکم سے اپنے اپنے مدار پر قائم ہیں اور یوں اس کی مشیت سے کائنات کا یہ مجموعی نظام چل رہا ہے۔ثُمَّ اِذَا دَعَاکُمْ دَعْوَۃً ق مِّنَ الْاَرْضِق اِذَآ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ ”قیامت کے دن بھی اللہ تعالیٰ کی شان ”کُن فیکُون“ کا ظہور ہوگا اور اس کے ایک ہی حکم سے پوری نسل انسانی زمین سے باہر نکل کر اس کے حضور حاضر ہوجائے گی۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 25 to 27.

اتھاہ خلا میں زمین اور سورج اور سیاروں اور ستاروں کا نظام اس قدر حیرت ناک حد تک نادر واقعہ ہے کہ وہ خود بول رہا ہے کہ وہ کسی قائم رکھنے والے کی قدرت سے قائم ہے۔ اور کسی چلانے والے کے زور پر چل رہا ہے۔ یہ غیر معمولی مدد اگر ایک لمحہ کےلیے بھی اس سے جدا ہو تو وہ بالکل درہم برہم ہوجائے۔ اس دنیامیں ایک معمولی ہوائی جہاز بھی پائلٹ کا کنٹرول کھونے کے بعد برباد ہوجاتاہے، پھر کائنات کا اتنا بڑا کارخانہ کسی کنٹرولر کے کنٹرول کے بغیر کیسے چل سکتا ہے۔

کائنات کا خالق کائنات میں اپنی قدرت کا جو مظاہرہ کررہاہے اس کے لحاظ سے اس کےلیے یہ کام آسان تر ہے کہ وہ انسان کو موت کے بعد دوبارہ پیدا کرے۔ تخلیق اول کا جو مظاہرہ کائنات میں ہر آن ہورہا ہے اس کے بعد تخلیق ثانی کو مانناایسا ہی ہے جیسے ایک ثابت شدہ چیز کو ماننا۔ کائنات میں خدا کی قدرت اور اس کی حکمت کا اظہار اتنی اعلیٰ سطح پر ہور ہا ہے کہ اس کے بعد کسی بھی کارنامہ کو خدا کی طرف منسوب کرنا کوئی مستبعد چیز نہیں۔


Connections

  • Previous: 30_24
  • Next: 30_26
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes