Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
۞كُلُّ ٱلطَّعَامِ كَانَ حِلّٗا لِّبَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسۡرَـٰٓءِيلُ عَلَىٰ نَفۡسِهِۦ مِن قَبۡلِ أَن تُنَزَّلَ ٱلتَّوۡرَىٰةُۚ قُلۡ فَأۡتُواْ بِٱلتَّوۡرَىٰةِ فَٱتۡلُوهَآ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
کھانے کی یہ ساری چیزیں (جو شریعت محمدیؐ میں حلال ہیں) بنی اسرائیل کے لیے بھی حلال تھیں، البتہ بعض چیزیں ایسی تھیں جنہیں توراۃ کے نازل کیے جانے سے پہلے اسرائیل نے خود اپنے اوپر حرام کر لیا تھا ان سے کہو، اگر تم (ا پنے اعتراض میں) سچے ہو تو لاؤ توراۃ اور پیش کرو اس کی کوئی عبارت
English (Sahih International)
All food was lawful to the Children of Israel except what Israel had made unlawful to himself before the Torah was revealed. Say, [O Muhammad], “So bring the Torah and recite it, if you should be truthful
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 93 and 94.
آیت 93 کُلُّ الطَّعَامِ کَان حلاًّ لِّبَنِیْ اِسْرَآءِ یْلَ اِلاَّ مَا حَرَّمَ اِسْرَآءِ یْلُ عَلٰی نَفْسِہٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰٹۃُ ط یہودی شریعت محمدی ﷺ پر اعتراض کرتے تھے کہ اس میں بعض ایسی چیزیں حلال قرار دی گئی ہیں جو شریعت موسوی علیہ السلام میں حرام تھیں۔ مثلاً ان کے ہاں اونٹ کا گوشت حرام تھا ‘ لیکن شریعت محمدی ﷺ میں یہ حرام نہیں ہے۔ اگر یہ بھی آسمانی شریعت ہے تو یہ تغیر کیسے ہوگیا ؟ یہاں اس کی حقیقت بتائی جا رہی ہے کہ تورات کے نزول سے قبل حضرت یعقوب علیہ السلام نے طبعی کراہت یا کسی مرض کے باعث بعض چیزیں اپنے لیے ممنوع قرار دے لی تھیں جن میں اونٹ کا گوشت بھی شامل تھا۔ جیسے نبی اکرم ﷺ نے اپنی دو ازواج کی دلجوئی کی خاطر شہد نہ کھانے کی قسم کھالی تھی ‘ جس پر یہ آیت نازل ہوئی : یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَج تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِکَ ط التحریم : 1 حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد نے بعد میں ان چیزوں کو حرام سمجھ لیا ‘ اور یہ چیز ان کے ہاں رواج کے طور پر چلی آرہی تھی۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان چیزوں کی حرمت تورات میں نازل نہیں ہوئی۔ کھانے پینے کی وہ تمام چیزیں جو اسلام نے حلال کی ہیں وہ بنی اسرائیل کے لیے بھی حلال تھیں ‘ سوائے ان چیزوں کے کہ جنہیں حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی ذاتی ناپسند کے باعث اپنے اوپر حرام ٹھہرا لیا تھا ‘ اور یہ بات تورات کے نزول سے بہت پہلے کی ہے۔ اس لیے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام میں اور نزول تورات میں چار پانچ سو سال کا فصل ہے۔ قُلْ فَاْتُوْا بالتَّوْرٰٹۃِ فَاتْلُوْہَآ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ تورات کے اندر تو کہیں بھی اونٹ کے گوشت کی حرمت مذکور نہیں ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 3:92.