Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
يَوۡمَ تَجِدُ كُلُّ نَفۡسٖ مَّا عَمِلَتۡ مِنۡ خَيۡرٖ مُّحۡضَرٗا وَمَا عَمِلَتۡ مِن سُوٓءٖ تَوَدُّ لَوۡ أَنَّ بَيۡنَهَا وَبَيۡنَهُۥٓ أَمَدَۢا بَعِيدٗاۗ وَيُحَذِّرُكُمُ ٱللَّهُ نَفۡسَهُۥۗ وَٱللَّهُ رَءُوفُۢ بِٱلۡعِبَادِ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
وہ دن آنے والا ہے، جب ہر نفس اپنے کیے کا پھل حاضر پائے گا خواہ اُس نے بھلائی کی ہو یا برائی اس روز آدمی یہ تمنا کرے گا کہ کاش ابھی یہ دن اس سے بہت دور ہوتا! اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور وہ اپنے بندوں کا نہایت خیر خواہ ہے
English (Sahih International)
The Day every soul will find what it has done of good present [before it] and what it has done of evil, it will wish that between itself and that [evil] was a great distance. And Allah warns you of Himself, and Allah is Kind to [His] servants
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 30 یَوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا ج وَّمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْءٍ ج اس کا نقشہ سورة الزلزال میں بایں الفاظ کھینچا گیا ہے : فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ تو جس نے ایک ذرے کے ہم وزن نیکی کی ہوگی وہ اس کو بچشم خود دیکھ لے گا۔ اور جس نے ایک ذرے کے ہم وزن برائی کی ہوگی وہ اس کو بچشم خود دیکھ لے گا۔تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَہَا وَبَیْنَہٗ اَمَدًام بَعِیْدًا ط۔اس وقت ہر انسان یہ چاہے گا کہ کاش میرے اور میرے اعمال نامے کے درمیان بڑا فاصلہ آجائے اور میری نگاہ بھی اس پر نہ پڑے۔وَیُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ ط۔یعنی تقویٰ اختیار کرنا ہے تو اس کا کرو ‘ ڈرنا ہے تو اس سے ڈرو ‘ خوف کھانا ہے تو اس سے کھاؤ ! وَاللّٰہُ رَءُ وْفٌم بالْعِبَادِ ۔یہ تنبیہات warnings وہ تمہیں بار بار اسی لیے دے رہا ہے تاکہ تمہاری عاقبت خراب نہ ہو۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 3:28.