Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 3:191 Prev 3:189


Arabic

إِنَّ فِي خَلۡقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱخۡتِلَٰفِ ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ لَأٓيَٰتٖ لِّأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

زمین اور آسمانوں کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری سے آنے میں اُن ہوش مند لوگوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں


English (Sahih International)

Indeed, in the creation of the heavens and the earth and the alternation of the night and the day are signs for those of understanding


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

سورة آل عمران کا آخری رکوع قرآن مجید کے عظیم ترین مقامات میں سے ہے۔ اس کی پہلی چھ آیات کے بارے میں روایت آتی ہے کہ جس شب میں یہ نازل ہوئیں تو پوری رات حضور ﷺ پر رقت طاری رہی اور آپ ﷺ کھڑے ‘ بیٹھے ‘ لیٹے ہوئے روتے رہے۔ نماز تہجد کے دوران بھی آپ ﷺ پر رقت طاری رہی۔ پھر آپ ﷺ نے بہت طویل سجدہ کیا ‘ اس میں بھی گریہ طاری رہا اور سجدہ گاہ آنسوؤں سے تر ہوگئی۔ پھر آپ ﷺ کچھ دیر لیٹے رہے لیکن وہ کیفیت برقرار رہی۔ یہاں تک کہ صبح صادق ہوگئی۔ حضرت بلال رض جب فجر کی نماز کی اطلاع دینے کے لیے حاضر ہوئے اور آپ ﷺ ‘ کو اس کیفیت میں دیکھا تو وجہ دریافت کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اے بلال ‘ میں کیوں نہ روؤں کہ آج کی شب میرے رب نے مجھ پر یہ آیات نازل فرمائی ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے ان آیات کی تلاوت فرمائی اس روایت کو امام رازی نے تفسیر کبیر میں بیان کیا ہے یعنی وہ گریہ اور رقت شکر کے جذبے کے تحت تھی۔یہ بھی نوٹ کیجیے کہ یہ سورة آل عمران کا بیسواں رکوع شروع ہو رہا ہے اور سورة البقرۃ کے بیسویں رکوع کی پہلی آیت کے الفاظ یہ تھے : اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلاَفِ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِیْہَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍص وَّتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ اسی آیت الآیات کا خلاصہ یہاں آگیا ہے : آیت 190 اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لّاُولِی الْاَلْبَابِ سورۃ البقرۃ کی آیت 164 ان الفاظ پر ختم ہوئی تھی : لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ یہاں ان لوگوں کو اولوا الالبابکا نام دیا گیا۔ یہ ہدایت کا پہلا قدم ہے کہ کائنات کو دیکھو ‘ مظاہر فطرت کا مشاہدہ کرو ؂کھول آنکھ ‘ زمین دیکھ ‘ فلک دیکھ ‘ فضا دیکھ مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ !یہ سب آیات الٰہیہ ہیں ‘ ان کو دیکھو اور اللہ کو پہچانو۔ اگلا قدم یہ ہے کہ جب اللہ کو پہچان لیا تو اب اسے یاد رکھو۔ یعنی ؂ َ فقر قرآں اختلاط ذکر و فکر فکر را کامل نہ دیدم جز بہ ذکر !


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 190 to 194.

کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ ایک خاموش اعلان ہے۔ آدمی جب اپنے کان اور آنکھ سے مصنوعی پردوں کو ہٹاتا ہے تو وہ اس خاموش اعلان کو ہر طرف سننے اور دیکھنے لگتا ہے۔ اس کو ناممکن نظر آتا ہے کہ ایک ایسی کائنات جس کے ستارے اور سیارے کھربوں سال تک بھی ختم نہیں ہوتے وہاں انسان اپنی تمام خواہشوں اور تمناؤں کو لیے ہوئے صرف پچاس سال اور سو سال میں ختم ہوجائے۔ ایک ایسی دنیا جہاں درختوں کا حسن اور پھولوں کی لطافت ہے۔ جہاں ہوا اور پانی اور سورج جیسی بے شمار بامعنی چیزوں کا اہتمام کیاگیا ہے وہاںانسان کے لیے حزن اور غم کے سوا کوئی انجام نہ ہو۔ پھر یہ بھی اس کو ناممکن نظر آتا ہے کہ ایک ایسی دنیا جہاں یہ اتھاہ امکان رکھا گیا ہے کہ یہاں ایک چھوٹا سا بیج زمین میںڈالا جائے تو اس کے اندر سے ہرے بھرے درخت کی ایک پوری کائنات نکل آئے وہاں آدمی نیکی کی زندگی اختیار کرکے بھی اس کا کوئی پھل نہ پاتا ہو۔ ایک ایسی دنیا جہاں ہر روز تاریک رات کے بعد روشن دن آتا ہے وہاں صدیاں گزر جائیں اور عدل وانصاف کا اجالا اپنی چمک نہ دکھائے۔ ایک ایسی دنیا جس کی گود میں زلزلے اور طوفان سورہے ہیں۔ وہاں انسان ظلم پر ظلم کر تا رہے مگر کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا سامنے نہ آئے۔ جو لوگ حقیقتوں میں جیتے ہیں اور گہرائیوں میں اتر کر سوچتے ہیں ان کے لیے ناقابلِ یقین ہوجاتا ہے کہ ایک بامعنی کائنات بے معنی انجام پر ختم ہوجائے۔ وہ جان لیتے ہیں کہ حق کا داعی جو پیغام دے رہا ہے وہ نطق کی زبان میں اسی بات کا اعلان ہے، جو خاموش زبان میں ساری کائنات میں نشر ہورہا ہے۔ ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ بن جاتا ہے کہ جب سچائی کھلے اور جب انصاف کا سورج نکلے تو اس دن وہ ناکام و نامراد نہ ہوجائیں، وہ اپنے رب کو پکارتے ہوئے اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں، وہ مفاد اور مصلحت کی تمام حدود کو توڑ کر داعی حق کے ساتھ ہوجاتے ہیں۔ تاکہ جب کائنات کا ’’اجالا‘‘ اور کائنات کا ’’اندھیرا‘‘ ایک دوسرے سے الگ کيے جائیں تو کائنات کا مالک ان کو اجالے میں جگہ دے، وہ ان کو اندھیرے میں ٹھوکریں کھانے کے لیے نہ چھوڑے۔

عقل اور بے عقلی کا حقیقی پیمانہ اس سے بالکل مختلف ہے جو انسانوں نے بطور خود بنا رکھا ہے۔ یہاں عقل والا وہ ہے جو اللہ کی یاد میں جئے، جو کائنات کے تخلیقی منصوبہ میںکام کرنے والی خدائی معنویت کو پالے۔ اس کے برعکس، بے عقل وہ ہے جو اپنے دل ودماغ کو دوسری دوسری چیزوں میں اٹکائے، جو دنیا میں اس طرح زندگی گزارے جیسے کہ ا س کو مالک کائنات کے تخلیقی منصوبہ کی خبر ہی نہیں۔


Connections

  • Previous: 3_189
  • Next: 3_191
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes