Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
۞لَتُبۡلَوُنَّ فِيٓ أَمۡوَٰلِكُمۡ وَأَنفُسِكُمۡ وَلَتَسۡمَعُنَّ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِكُمۡ وَمِنَ ٱلَّذِينَ أَشۡرَكُوٓاْ أَذٗى كَثِيرٗاۚ وَإِن تَصۡبِرُواْ وَتَتَّقُواْ فَإِنَّ ذَٰلِكَ مِنۡ عَزۡمِ ٱلۡأُمُورِ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
مسلمانو! تمہیں مال اور جان دونوں کی آزمائشیں پیش آ کر رہیں گی، اور تم اہل کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے اگر ان سب حالات میں تم صبر اور خدا ترسی کی روش پر قائم رہو تو یہ بڑے حوصلہ کا کام ہے
English (Sahih International)
You will surely be tested in your possessions and in yourselves. And you will surely hear from those who were given the Scripture before you and from those who associate others with Allah much abuse. But if you are patient and fear Allah - indeed, that is of the matters [worthy] of determination
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 186 and 187.
آیت 186 لَتُبْلَوُنَّ فِیْ اَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ قف یہ وہی مضمون ہے جو سورة البقرۃ کے انیسویں رکوع میں گزر چکا ہے : وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ط آیت 155 اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے کسی قدر خوف سے اور بھوک سے اور مالوں ‘ جانوں اور ثمرات کے نقصان سے۔ یہاں مجہول کا صیغہ ہے کہ تمہیں لازماً آزمایا جائے گا ‘ تمہاری آزمائش کی جائے گی تمہارے مالوں میں بھی اور تمہاری جانوں میں بھی۔ کان کھول کر سن لو کہ یہ ایمان کا راستہ پھولوں کی سیج نہیں ہے ‘ یہ کانٹوں بھرا بستر ہے۔ ایسا نہیں ہوگا کہ ٹھنڈے ٹھنڈے اور بغیر تکلیفیں اٹھائے تمہیں جنت مل جائے گی۔ سورة البقرۃ آیت 214 میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی تو تم پر وہ حالات و واقعات وارد نہیں ہوئے جو تم سے پہلوں پر ہوئے تھے۔۔وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْآ اَذًی کَثِیْرًا ط یہ سب کچھ سنو اور صبر کرو۔ جیسے رسول اللہ ﷺ سے ابتدا میں کہا گیا تھا : وَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ وَاھْجُرْھُمْ ھَجْرًا جَمِیْلًا المزمل اور ان باتوں پر صبر کیجیے جو یہ لوگ کہتے ہیں اور وضعداری کے ساتھ ان سے الگ ہوجایئے۔ آپ ﷺ کو کیا کچھ نہیں سننا پڑا۔ کسی نے کہہ دیا مجنون ہے ‘ کسی نے کہہ دیا شاعر ہے ‘ کسی نے کہا ساحر ہے ‘ کسی نے کہا مسحور ہے۔ سورة الحجر کے آخر میں ارشاد ہے : وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَ نَّکَ یَضِیْقُ صَدْرُکَ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں خوب معلوم ہے کہ یہ مشرکین جو کچھ کہہ رہے ہیں اس سے آپ ﷺ ‘ کا سینہ بھنچتا ہے۔ ان کی زبانوں سے جو کچھ آپ ﷺ کو سننا پڑرہا ہے اس سے آپ ﷺ کو تکلیف پہنچتی ہے ‘ لیکن صبر کیجیے ! وہی بات مسلمانوں سے کہی جا رہی ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 186 to 189.
ایمان کا سفر آدمی کو ایسی دنیا میںطے کرنا ہوتا ہے جہاں اپنوں اور غیروں کی طرف سے طرح طرح کے زخم لگتے ہیں۔ مگر مومن کے لیے ضروری ہوتاہے کہ رد عمل کی نفسیات میں مبتلا نہ ہو، وہ ہر صورت حال کا مثبت جواب دیتے ہوئے آگے بڑھتا رہے۔ لوگوں کی طرف سے اشتعال دلانے والے مواقع پیش آتے ہیں مگر وہ پابند ہوتا ہے کہ ہر قسم کے جھٹکوں کو اپنے اوپر سہے اور جوابی ذہن کے تحت کوئی کارروائی نہ کرے۔ بار بار ایسے معاملات سامنے آتے ہیں جب کہ دل کہتا ہے کہ حدود خداوندی کو توڑ کر اپنا مدعا حاصل كيا جائے مگر اللہ کا ڈر اس کے قدموں کو روک دیتا ہے۔اسی طرح دین کی مختلف ضرورتیں سامنے آتی ہیں اور جان ومال کی قربانی کا تقاضا کرتی ہیں۔ ایسے مواقع پر آسان دین کو چھوڑ کر مشکل دین کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔ یہ واقعہ ایمان کے سفر کو ہمت اور عالی حوصلگی کا زبردست امتحان بنا دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن بننا اپنے آپ کو صبر اور تقویٰ کے امتحان میںکھڑا کرنا ہے۔ جواس امتحان میں پورا اترا وہی وہ مومن بنا جس کے لیے آخرت میں جنت کے دروازے کھولے جائیں گے۔
آسمانی کتاب کے حامل کسی گروہ پر جب زوال آتا ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ وہ خدا ورسول کا نام لینا چھوڑ دے یا خدا کی کتاب سے اپنی بےتعلقی کا اعلان کردے۔ دین ایسے گروہ کی نسلی روایات میں شامل ہوجاتا ہے۔ وہ اس کا پُر فخر قومی اثاثہ بن جاتا ہے۔اور جس چیز سے اس طرح کا نسلی اور قومی تعلق قائم ہوجائے اس سے علیحدگی کسی گروہ کے لیے ممکن نہیں ہوتی۔ تاہم اس کا یہ تعلق محض رسمی تعلق ہوتا ہے، نہ کہ فی الواقع حقیقی تعلق۔ وہ اپنی دنیوی سرگرمیاں بھی دین کے نام پر جاری کرتے ہیں۔ وہ بے دین ہو کر بھی اپنےکو دین دار کہلانا چاہتے ہیں۔ وہ چاہنے لگتے ہیں کہ ان کو اس کام کا کریڈٹ دیا جائے جس کو انھوں نے کیا نہیں۔ وہ نجاتِ اُخروی سے بے فکر ہو کر زندگی گزارتے ہیں اور اسی کے ساتھ ایسے عقیدے بنا لیتے ہیں جس کے مطابق ان کو اپنی نجات بالکل محفوظ نظر آتی ہے۔ وہ اپنے گھڑے ہوئے دین پر چلتے ہیں مگر اپنے کو دین خداوندی کا عَلَم بردار بتاتے ہیں۔ وہ دنیوی مقاصد کے لیے سرگرم ہوتے ہیں اور اپنی سرگرمیوں کو آخرت کا عنوان دیتے ہیں۔ وہ خود ساختہ سیاست چلاتے ہیں اور اس کو خدائی سیاست ثابت کرتے ہیں۔ وہ قومی مفادات کے لیے اٹھتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ وہ خیر الامم کا کردار ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے ہیں۔ مگر کوئی شخص بے دینی کو دین کہنے لگے تو اس بنا پر وہ اللہ کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا ،آدمی دنیا کی طرف دوڑے اور آخرت سے بے پروا ہو جائے تو یہ صرف گمراہی ہے اور اگر وہ اپنے دنیوی کاروبار کو خدا وررسول کے نام پر کرنے لگے تو یہ گمراہی پر ڈھٹائی کا اضافہ ہے۔ کیوں کہ یہ ایسے کام پر انعام چاہنا ہے جس کو آدمی نے انجام ہی نہیں دیا۔