Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 3:181 Prev 3:179


Arabic

وَلَا يَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ يَبۡخَلُونَ بِمَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦ هُوَ خَيۡرٗا لَّهُمۖ بَلۡ هُوَ شَرّٞ لَّهُمۡۖ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُواْ بِهِۦ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۗ وَلِلَّهِ مِيرَٰثُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٞ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

جن لوگوں کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے اور پھر وہ بخل سے کام لیتے ہیں وہ اس خیال میں نہ رہیں کہ یہ بخیلی ان کے لیے اچھی ہے نہیں، یہ ان کے حق میں نہایت بری ہے جو کچھ وہ اپنی کنجوسی سے جمع کر رہے ہیں وہی قیامت کے روز ان کے گلے کا طوق بن جائے گا زمین اور آسمانوں کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے


English (Sahih International)

And let not those who [greedily] withhold what Allah has given them of His bounty ever think that it is better for them. Rather, it is worse for them. Their necks will be encircled by what they withheld on the Day of Resurrection. And to Allah belongs the heritage of the heavens and the earth. And Allah, with what you do, is [fully] Acquainted


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 180 وَلاَ یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَآ اٰتٰٹہُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ہُوَ خَیْرًا لَّہُم ْ ط۔ظاہر بات ہے کہ جب جنگ احد کے لیے تیاری ہو رہی ہوگی تو حضور ﷺ نے مسلمانوں کو انفاق مال کی دعوت دی ہوگی تاکہ اسباب جنگ فراہم کیے جائیں۔ لیکن جن لوگوں نے دولت مند ہونے کے باوجود بخل کیا ان کی طرف اشارہ ہو رہا ہے کہ انہوں نے بخل کر کے جو اپنا مال بچالیا وہ یہ نہ سمجھیں کہ انہوں نے کوئی اچھا کام کیا ہے۔ یہ مال اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کیا تھا ‘ اس میں بخل سے کام لے کر انہوں نے اچھا نہیں کیا۔ بَلْ ہُوَ شَرٌّ لَّہُمْ ط سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ط وَلِلّٰہِ مِیْرَاث السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط دنیا کا مال و اسباب آج تمہارے پاس ہے تو کل کسی اور کے پاس چلا جائے گا اور بالآخر سب کچھ اللہ کے لیے رہ جائے گا۔ آسمانوں اور زمین کی میراث کا حقیقی وارث اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ یہاں وہ چھ رکوع مکمل ہوگئے ہیں جو غزوۂ احد کے حالات و واقعات اور ان پر تبصرے پر مشتمل تھے۔ اس سورة مبارکہ کے آخری دو رکوع کی نوعیت حاصل کلام کی ہے۔ یہ گویا concluding رکوع ہیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 180 to 185.

ظاہری طور پر آدمی ایک قول دے کر مومن بن جاتا ہے مگر اللہ کی نظر میں وہ اس وقت مومن بنتا ہے جب کہ وہ اپنی جان اور اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے دے۔ جان ومال کی قربانی کے بغیر کسی کا ایمان اللہ کے یہاں معتبر نہیں۔ آدمی اپنے مال کو اس لیے بچاتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح وہ اپنے دنیوی مستقبل کا تحفظ کررہا ہے۔ مگر آدمی کا حقیقی مستقبل وہ ہے جو آخرت میں سامنے آنے والا ہے اور آخرت کی دنیا میں ایسا بچایا ہوا مال آدمی کے حق میں صرف وبال ثابت ہوگا۔ جو مال دنیا میں زینت اور فخر کا ذریعہ دکھائی دے رہاہے وہ آخرت میں خداکے حکم سے سانپ کی صورت اختیار کرلے گا جو ابدی طورپر اس کو ڈستارہے۔

جو لوگ قربانی والے دین کو نہیں اپناتے وہ اپنے کو صحیح ثابت کرنے کے لیے مختلف باتیں کرتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ یہ مال خدا نے ہماری ضرورت کے لیے پیدا کیا ہے۔ پھر کیوں نہ ہم اس کو اپنی ضرورتوں میں خرچ کریں، اور اس سے اپنے دنیوی آرام کا سامان کریں۔ کبھی ان کی بے حسی ان کو یہاں تک لے جاتی ہے کہ وہ خود داعیٔ حق کو مشتبہ کرنے کے لیے طرح طرح کے شوشے نکالتے ہیں تاکہ یہ ثابت کرسکیں کہ وہ شخص سچا داعی ہی نہیں،جس کا ظہوریہ تقاضا کررہا ہے کہ اپنی زندگی اور اپنے مال کو قربان کرکے اس کا ساتھ دیا جائے۔ اس قسم کے لوگ جو باتیں کہتے ہیں وہ بظاہر دلیل کے روپ میں ہوتی ہیں مگر حقیقۃً وہ ایمانی تقاضوںسے فرار کے لیے ہیں۔ اس لیے خواہ کیسی ہی دلیل پیش کی جائے وہ ا س کو رد کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ الفاظ تلاش کرلیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس بات کو بھول گئے ہیں کہ ان کا آخری انجام موت ہے، اور موت کا مرحلہ سامنے آتے ہی صورت حال بالکل بدل جائے گی۔ موت تمام جھوٹے سہاروں کو باطل کردے گی۔ اس کے بعد آدمی اپنے آپ کو ٹھیک اس مقام پر کھڑا ہوا پائے گا جہاں وہ حقیقۃً تھا، نہ کہ اس مقام پر جہاں وہ اپنے آپ کو ظاہر کررہا تھا — موجودہ دنیا میں کسی کا ترقی کرنا یا موجودہ دنیا میں کسی کا ناکام ہوجانا، دونوں حقیقت کے اعتبار سے ایک ہی سطح کی چیزیں ہیں۔ نہ یہاں کی نعمتیں کسی کے برسر حق ہونے کا ثبوت ہیں، اور نہ کسی کا یہاں مشکلات ومصائب میں مبتلا ہونا، اس کے برسرِ باطل ہونے کا ثبوت۔ کیوں کہ دونوں ہی امتحان کے نقشے ہیں، نہ کہ انجام کی علامتیں۔


Connections

  • Previous: 3_179
  • Next: 3_181
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes