Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 3:18 Prev 3:16


Arabic

ٱلصَّـٰبِرِينَ وَٱلصَّـٰدِقِينَ وَٱلۡقَٰنِتِينَ وَٱلۡمُنفِقِينَ وَٱلۡمُسۡتَغۡفِرِينَ بِٱلۡأَسۡحَارِ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

یہ لوگ صبر کرنے والے ہیں، راستباز ہیں، فرمانبردار اور فیاض ہیں اور رات کی آخری گھڑیوں میں اللہ سے مغفرت کی دعائیں مانگا کرتے ہیں


English (Sahih International)

The patient, the true, the obedient, those who spend [in the way of Allah], and those who seek forgiveness before dawn


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 17 اَلصّٰبِرِیْنَ وَالصّٰدِقِیْنَ راست بازی میں راست گوئی بھی شامل ہے اور راست کرداری بھی۔ یعنی آپ کا عمل بھی صحیح اور درست ہو اور قول بھی صحیح اور درست ہو۔وَالْقٰنِتِیْنَ وَالْمُنْفِقِیْنَ وَالْمُسْتَغْفِرِیْنَ بالْاَسْحَارِ وہ جو سحر کا وقت ہے small hours of the morning اس وقت اللہ کے حضور استغفار کرنے والے۔ ایک تو پنج وقتہ نمازیں ہیں ‘ اور ایک خاص وقت ہے جس کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ ہر رات جب رات کا آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ سمائے دنیا تک نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے : ھَلْ مِنْ سَاءِلٍ یُعْطٰی ؟ ھَلْ مِنْ دَاعٍ یُسْتَجَابُ لَہٗ ؟ ھَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ یُغْفَرُلَہٗ ؟ 1 ہے کوئی مانگنے والا کہ اسے عطا کیا جائے ؟ ہے کوئی دعا کرنے والا کہ اس کی دعا قبول کی جائے ؟ ہے کوئی استغفار کرنے والا کہ اسے معاف کردیا جائے ؟ گویا : ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں راہ دکھلائیں کسے راہ رو منزل ہی نہیں !


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ اس لیے یہاں کی چیزوں میں آدمی کے لیے ظاہری کشش رکھی گئی ہے۔ اب خدا یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون ہے جو ظاہری کشش سے متاثر ہو کر دنیا کی چیزوں میں کھو جاتا ہے۔او ر کون ہے جو اس سے اوپر اٹھ کر آخرت کی اَن دیکھی چیزوں کو اپنی توجہ کا مرکز بناتا ہے۔ آدمی کو دنیا کی چیزوں میں تسکین ملتی ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ ماحول کے اندر ان کے ذریعہ سے وقار قائم ہوتا ہے۔ یہ چیزیں ہوں تو اس کے سب کام بنتے چلے جاتے ہیں۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہی چیزیں اصل اہمیت کی چیزیں ہیں۔ اس کی دلچسپیاں اور سرگرمیاں سمٹ کر بیوی بچوں اور مال وجائداد کے گرد جمع ہوجاتی ہیں۔ یہی چیز آخرت کے تقاضوں کی طرف بڑھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ دنیا کی چیزوں کی اہمیت کا احساس آدمی کو آخرت کی چیزوں کی طرف سے غافل کردیتا ہے۔ دنیا میں اپنے بچوں کے مستقبل کی تعمیر میں وہ اتنا مشغول ہوتا ہے کہ اس کو یاد نہیں رہتا کہ دنیا سے ماورا بھی کوئی ’’مستقبل‘‘ ہے جس کی تعمیر کی اس کو فکر کرنا چاہیے۔ دنیا میں اپنے گھر کو آباد کرنا اس کے لیے اتنا محبوب بن جاتا ہے کہ اس کو کبھی خیال نہیں آتا کہ اس کے سوا بھی کوئی ’’گھر‘‘ ہے جس کو آبادكرنے میں اس کو لگنا چاہیے۔ دنیا میں دولت سمیٹنا اور جائداد بنانا اس کو اتنا زیادہ قیمتی معلوم ہوتے ہیں کہ وہ سوچ نہیں پاتا کہ اس کے سوا بھی کوئی ’’دولت‘‘ ہے جس کو حاصل کرنے کے لیے وہ اپنے کو وقف کرے۔ مگر اس قسم کی تمام چیزیںصرف موجودہ عارضی زندگی کی رونق ہیں۔ اگلی طویل تر زندگی میں وہ کسی کے کچھ کام آنے والی نہیں۔

جو شخص آخرت کی مستقل زندگی کو اپنی توجہات کا مرکز بنائے اس کی زندگی کیسی زندگی ہوگی۔ دنیا کی رونقیں اس کی نظر میں حقیر بن جائیں گی۔ وہ اس یقین سے بھر جائے گا کہ آخرت کا معاملہ تمام تر اللہ کے اختیار میں ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ سب سے زیاہ اللہ سے ڈرے گا اور سب سے زیادہ آخرت کا حریص بن جائے گا۔ معاملات میں وہ اپنی خواہش کے پیچھے نہیں چلے گا بلکہ اللہ کی عدالت کو سامنے رکھ کر اپنا رویہ متعین کرے گا۔ اس کے قول وعمل میں فرق نہیں ہوگا۔ اس کا مال اپنا مال نہ رہے گا بلکہ خدا کے لیے وقف ہوجائے گا۔ اللہ کی راہ میں چلنے میں خواہ کتنی ہی مشکلیں پیش آئیں وہ پوری استقامت کے ساتھ اس پر قائم رہے گا۔ کیوں کہ اس کو یقین ہوگا کہ اللہ کو چھوڑنے کے بعد کوئی نہیں ہے جو اس کا سہارا بنے۔ اس کا دل اللہ کی یاد سے اس طرح پگھل اٹھے گا کہ وہ بے تابانہ اس کو پکارنے لگے گا۔ اس کی تنہائیاں اپنے رب کی صحبت میں بسر ہونے لگیں گی۔ اللہ کی عظمت وکمال کے آگے اس کو اپنا وجود سر تاپا غلط نظر آئے گا۔ اس کے پاس کہنے کے لیے اس کے سوا اور کچھ نہ ہوگا — اے میرے رب مجھے معاف کردے۔


Connections

  • Previous: 3_16
  • Next: 3_18
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes