Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
سَنُلۡقِي فِي قُلُوبِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ ٱلرُّعۡبَ بِمَآ أَشۡرَكُواْ بِٱللَّهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهِۦ سُلۡطَٰنٗاۖ وَمَأۡوَىٰهُمُ ٱلنَّارُۖ وَبِئۡسَ مَثۡوَى ٱلظَّـٰلِمِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب ہم منکرین حق کے دلوں میں رعب بٹھا دیں گے، اس لیے کہ اُنہوں نے اللہ کے ساتھ اُن کو خدائی میں شریک ٹھیرایا ہے جن کے شریک ہونے پر اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی اُن کا آخری ٹھکانا جہنم ہے اور بہت ہی بری ہے وہ قیام گاہ جو اُن ظالموں کو نصیب ہوگی
English (Sahih International)
We will cast terror into the hearts of those who disbelieve for what they have associated with Allah of which He had not sent down [any] authority. And their refuge will be the Fire, and wretched is the residence of the wrongdoers
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 151 سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَآ اَشْرَکُوْا باللّٰہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا ج وَمَاْوٰٹہُمُ النَّارُط وَبِءْسَ مَثْوَی الظّٰلِمِیْنَ اس آیت میں دراصل توجیہہ بیان ہو رہی ہے کہ غزوۂ احد میں مشرکین واپس کیوں چلے گئے ‘ جب کہ ان کو اس درجے کھلی فتح حاصل ہوچکی تھی اور مسلمانوں کو ہزیمت اٹھانا پڑی تھی۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رض نے پہاڑ کے اوپر چڑھ کر پناہ لے لی تھی۔ خالد بن ولید کہہ رہے تھے کہ ہمیں ان کا تعاقب کرنا چاہیے اور اس معاملے کو ختم کردینا چاہیے۔ لیکن ابوسفیان کے دل میں اللہ نے اس وقت ایسا رعب ڈال دیا کہ وہ لشکر کو لے کر وہاں سے چلے گئے۔ ورنہ واقعتا اس وقت صورت حال بہت مخدوش ہوچکی تھی۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 3:149.