Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ ٱلشَّهَوَٰتِ مِنَ ٱلنِّسَآءِ وَٱلۡبَنِينَ وَٱلۡقَنَٰطِيرِ ٱلۡمُقَنطَرَةِ مِنَ ٱلذَّهَبِ وَٱلۡفِضَّةِ وَٱلۡخَيۡلِ ٱلۡمُسَوَّمَةِ وَٱلۡأَنۡعَٰمِ وَٱلۡحَرۡثِۗ ذَٰلِكَ مَتَٰعُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ وَٱللَّهُ عِندَهُۥ حُسۡنُ ٱلۡمَـَٔابِ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
لوگوں کے لیے مرغوبات نفس، عورتیں، اولا د، سونے چاندی کے ڈھیر، چیدہ گھوڑے، مویشی او ر زرعی زمینیں بڑی خوش آئند بنا دی گئی ہیں، مگر یہ سب دنیا کی چند روزہ زندگی کے سامان ہیں حقیقت میں جو بہتر ٹھکانا ہے، وہ تو اللہ کے پاس ہے
English (Sahih International)
Beautified for people is the love of that which they desire - of women and sons, heaped-up sums of gold and silver, fine branded horses, and cattle and tilled land. That is the enjoyment of worldly life, but Allah has with Him the best return
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 14 زُیِّنَ للنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالْبَنِیْنَ مرغوبات دنیا میں سے پہلی محبت عورتوں کی گنوائی گئی ہے۔ فرائیڈ کے نزدیک بھی انسانی محرکات میں سب سے قوی اور زبردست محرک potent motive جنسی جذبہ ہے اور یہاں اللہ تعالیٰ نے بھی سب سے پہلے اسی کا ذکر کیا ہے۔ اگرچہ بعض لوگوں کے لیے پیٹ کا مسئلہ فوقیت اختیار کرجاتا ہے اور معاشی ضرورت جنسی جذبے سے بھی شدید تر ہوجاتی ہے ‘ لیکن واقعہ یہ ہے کہ مرد و عورت کے مابین کشش انسانی فطرت کا لازمہ ہے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے بھی فرمایا ہے : مَا تَرَکْتُ بَعْدِیْ فِتْنَۃً اَضَرَّ عَلَی الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ 1میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں کے فتنے سے زیادہ ضرر رساں فتنہ اور کوئی نہیں چھوڑا۔ان کی محبت انسان کو کہاں سے کہاں لے جاتی ہے۔ بلعام بن باعورہ یہود میں سے ایک بہت بڑا عالم اور فاضل شخص تھا ‘ مگر ایک عورت کے چکر میں آکر وہ شیطان کا پیرو بن گیا۔ اس کا قصہّ سورة الاعراف میں بیان ہوا ہے۔ بہرحال عورتوں کی محبت انسانی فطرت کے اندر رکھ دی گئی ہے۔ پھر انسان کو بیٹے بہت پسند ہیں کہ اس کی نسل اور اس کا نام چلتا رہے ‘ وہ بڑھاپے کا سہارا بنیں۔ وَالْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَالْخَیْلِ الْمُسَوَّمَۃِ عمدہ نسل کے گھوڑے جنہیں چن کر ان پر نشان لگائے جاتے ہیں۔وَالْاَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ط پنجاب اور سرائیکی علاقہ میں چوپاؤں کو مال کہا جاتا ہے۔ یہ جانور ان کے مالکوں کے لیے مال کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ذٰلِکَ مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج بس نقطۂ اعتدال یہ ہے کہ جان لو یہ ساری چیزیں اس دنیا کی چند روزہ زندگی کا سازوسامان ہیں۔ اس زندگی کے لیے ضروریات کی حد تک ان سے فائدہ اٹھانا کوئیُ بری بات نہیں ہے۔وَاللّٰہُ عِنْدَہٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ ۔وہ جو اللہ کے پاس ہے اس کے مقابلے میں یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر ایمان بالآخرت موجود ہے تو پھر انسان ان تمام مرغوبات کو ‘ اپنے تمام جذبات اور میلانات کو ایک حد کے اندر رکھے گا ‘ اس سے آگے نہیں بڑھنے دے گا۔ لیکن اگر ان میں سے کسی ایک شے کی محبت بھی اتنی زوردار ہوگئی کہ آپ کے دل کے اوپر اس کا قبضہ ہوگیا تو بس آپ اس کے غلام ہوگئے ‘ اب وہی آپ کا معبود ہے ‘ چاہے وہ دولت ہو یا کوئی اور شے ہو۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 14 to 16.
خدا کی رحمت ہدایت اس طرح تقسیم نہیں ہوتی کہ جس شخص کو دنیوی عظمت ملی ہوئی ہو اسی کو خدا کی ہدایت بھی دے دی جائے۔ اگر دنیوی عظمت لوگوں کو خدا کے یہاں عظیم بنانے والی ہوتی تو ایسے لوگوں کےلیے ممکن ہوتاکہ وہ جس شخص کو چاہیں خدا کی رحمت پہنچائیں اور جس سے چاہیں اسے روک دیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ خدا اپنی رحمت کی تقسیم خود اپنے معیار پر کرتاہے، نہ کہ ظاہر پرست انسانوں کے بنائے ہوئے معیار پر۔
پیغمبر کا انکار کرنے والے کہتے کہ جس خدائی عذاب سے تم ہم کو ڈرارہے ہو اس خدائی عذاب کو لے آؤ۔ یہ جرأت ان کے اندر اس ليے پیدا ہوتی تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ ان پر خدا کا عذاب آنے والا ہی نہیں۔ ان کو بتایا گیا کہ جن بتوں کے بل پر تم اپنے آپ کو محفوظ سمجھ رہے ہو، اسی قسم کے بتوں کے بل پر پچھلی قوموں نے بھی اپنے کو محفوظ سمجھا اور اپنے رسولوں کے ساتھ سرکشی کی۔ مگر وہ سب کی سب ہلاک کردی گئیں۔ پھر تم آخر کس طرح بچ جاؤ گے۔