Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
۞لَيۡسُواْ سَوَآءٗۗ مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ أُمَّةٞ قَآئِمَةٞ يَتۡلُونَ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ ءَانَآءَ ٱلَّيۡلِ وَهُمۡ يَسۡجُدُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
مگر سارے اہل کتاب یکساں نہیں ہیں ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو راہ راست پر قائم ہیں، راتوں کو اللہ کی آیات پڑھتے ہیں اور اسکے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں
English (Sahih International)
They are not [all] the same; among the People of the Scripture is a community standing [in obedience], reciting the verses of Allah during periods of the night and prostrating [in prayer]
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 113 to 116.
آیت 113 لَیْسُوْا سَوَآءً ط۔ان میں اچھے بھی ہیں ‘ برے بھی ہیں۔مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَآءِمَۃٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ اٰنَاءَ الَّیْلِ وَہُمْ یَسْجُدُوْنَ ۔رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں خاص طور پر عیسائی راہبوں کی ایک کثیر تعداد اس کردار کی حامل تھی۔ ان ہی میں سے ایک بحیرہ راہب تھا جس نے بچپن میں آنحضور ﷺ کو پہچان لیا تھا۔ یہود میں بھی اکا دکا لوگ اس طرح کے باقی ہوں گے ‘ لیکن اکثر و بیشتر یہود میں سے یہ کردار ختم ہوچکا تھا ‘ البتہ عیسائیوں میں ایسے لوگ بکثرت موجود تھے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 113 to 117.
نیکیوں میں سبقت (مسارعة فی الخیرات) سے مراد اس آیت میں مومنین اہلِ کتاب کا یہ عمل ہے کہ نبی آخر الزماں کی زبان سے جب خدائی سچائی کا اعلان ہوا تو انھوں نے فوراً اس کو پہچان لیا اور اس کی طرف عاجزانہ دوڑ پڑے۔ اس وقت ایک طرف دین موسیٰ تھا جو تاریخی عظمت اور روایتی تقدس کے زور پر قائم تھا۔ دوسری طرف دین محمد تھا جس کی پشت پر ابھی تک صرف دلیل کی طاقت تھی، تاریخی عظمت اور روایاتی تقدس کا وزن ابھی تک اس کے ساتھ شامل نہیں ہوا تھا۔ اپنے دین اور وقت کے نبی کے دین میں یہ فرق وقت کے نبی کے دین کو ماننے میں زبردست رکاوٹ تھا۔ مگر وہ اس رکاوٹ کو عبور کرنے میں کامیاب ہوگئے اور بڑھ کر وقت کے نبی کے دین کو مان لیا۔
مال واولاد کی محبت آدمی کو قربانی والے دین پر آنے نہیں دیتی۔ البتہ نمائشی قسم کے اعمال کا مظاہرہ کرکے وہ سمجھتا ہے کہ وہ خدا کے دین پر قائم ہے۔ مگر جس طرح سخت ٹھنڈی ہوا اچانک پوری کھیتی کو برباد کردیتی ہے، اسی طرح قیامت کا طوفان ان کے نمائشی اعمال کو بے قیمت کرکے رکھ دے گا — یہود میں صرف چند لوگ تھے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے۔ ’’امت قائمہ‘‘ کی حیثیت سے ان کا مستقل ذکر کرنا ظاہر کرتا ہے کہ چند آدمی اگر اللہ سے ڈرنے والے ہوں تو وہ بھیڑ کے مقابلہ میں اللہ کی نظر میں زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔
نجات کے لیے صرف یہ کافی نہیں ہے کہ کسی پیغمبر کے نام پر جو نسلی امت بن گئی ہے، آدمی اس امت میں شامل رہے۔ بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ وہ عہد کا پابند بنے۔ عہد سے مراد ایمان ہے۔ ایمان بندے اور خدا کے درمیان ایک عہد ہے۔ ایمان لاکر بندہ اپنے آپ کو اس کا پابند کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کا وفادار اور اطاعت گزار بنائے گا۔ بالفاظ دیگر، گروہی نسبت نہیں بلکہ ذاتی عمل وہ چیز ہے جو کسی آدمی کو خدا کی رحمت اور بخشش کا مستحق بناتی ہے۔
اس عہد میں تمام ایمانی ذمہ داریاں شامل ہیں۔ تنہائیوں میں اللہ کی یاد، اللہ کی عبادت گزاری، آخرت کو سامنے رکھ کر زندگی گزارنا، اپنے آس پاس جو افراد ہوں ان کو بھلائی پر لانے کی کوشش کرنا، جو افراد برائی کا ارتکاب کریں ان کو برائی سے ہٹانے میں پورا زور لگا دینا، خدا کی پسند کے کاموں میں دوڑ کر حصہ لینا۔ جو لوگ ایسا کریں وہی عہد ربانی پر پورے اترے۔ وہ خدا کے مقبول بندے ہیں۔ ان کا عمل خدا کے علم میں ہے، وہ ان کو ان کے عمل کا بدلہ دے گا اور فیصلہ کے دن ان کی پوری قدردانی فرمائے گا۔