Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
كَدَأۡبِ ءَالِ فِرۡعَوۡنَ وَٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا فَأَخَذَهُمُ ٱللَّهُ بِذُنُوبِهِمۡۗ وَٱللَّهُ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اُن کا انجام ویسا ہی ہوگا، جیسا فرعون کے ساتھیوں اور اُن سے پہلے کے نافرمانوں کا ہو چکا ہے کہ اُنہوں نے آیات الٰہی کو جھٹلایا، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑ لیا اور حق یہ ہے کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے
English (Sahih International)
[Theirs is] like the custom of the people of Pharaoh and those before them. They denied Our signs, so Allah seized them for their sins. And Allah is severe in penalty
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 11 and 12.
آیت 11 کَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ لا والَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ط تمہاری تو حیثیت ہی کیا ہے ! کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔ آل فرعون کا معاملہ یاد کرو ‘ ان کے ساتھ کیا ہوا تھا ؟ فرعون بہت بڑا شہنشاہ اور بڑے لاؤ لشکر والا تھا ‘ لیکن اس کا کیا حال ہوا ؟ اور اس سے پہلے عاد وثمود جیسی زبردست قومیں اسی جزیرہ نمائے عرب میں رہی ہیں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
غزوۂ احزاب (5 ھ) عرب قبائل اور یہود کی طرف سے مدینہ پر مشترک حملہ تھا۔ اس میں حملہ آوروں کی تعداد تقریباً
12
ہزارتھی۔ مسلمان اس عظیم فوج سے لڑنے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی خصوصی تدبیروں کے ذریعے دشمنوں کو اس قدر خوف زدہ کیا کہ تقریباً ایک مہینہ کے محاصرہ کے بعد وہ خود مدینہ کو چھوڑ کر چلے گئے۔
اس طرح کے سخت حالات اسلامی دعوت کے ساتھ اس ليے پیش آتے ہیں کہ مسلمانوں کے گروہ سے مخلصین اور غیر مخلصین کو الگ کردیں۔ اور دوسرے یہ کہ دشمن طاقتوں کو دکھا دیں کہ خدا اپنے دین کا خود حامی ہے۔ وہ کسی حال میں اس کو مغلوب ہونے نہیں دے گا۔