Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 29:48 Prev 29:46


Arabic

وَكَذَٰلِكَ أَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَۚ فَٱلَّذِينَ ءَاتَيۡنَٰهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ يُؤۡمِنُونَ بِهِۦۖ وَمِنۡ هَـٰٓؤُلَآءِ مَن يُؤۡمِنُ بِهِۦۚ وَمَا يَجۡحَدُ بِـَٔايَٰتِنَآ إِلَّا ٱلۡكَٰفِرُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

(اے نبیؐ) ہم نے اِسی طرح تمہاری طرف کتاب نازل کی ہے، اس لیے وہ لوگ جن کو ہم نے پہلے کتاب دی تھی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں، اور اِن لوگوں میں سے بھی بہت سے اس پر ایمان لا رہے ہیں، اور ہماری آیات کا انکار صرف کافر ہی کرتے ہیں


English (Sahih International)

And thus We have sent down to you the Qur’an. And those to whom We [previously] gave the Scripture believe in it. And among these [people of Makkah] are those who believe in it. And none reject Our verses except the disbelievers


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ ج ”یعنی یہود و نصاریٰ میں سے بھی ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن کو اللہ کا کلام مانتے ہوئے اس پر ایمان لائیں گے۔ جیسا کہ قبل ازیں ہم سورة القصص کے چھٹے رکوع میں حبشہ سے مکہ آنے والے ان مسلمانوں کا ذکر پڑھ چکے ہیں جو پہلے عیسائی تھے ‘ پھر صحابہ کرام رض کی تبلیغ سے حضور ﷺ پر ایمان لے آئے اور یوں اللہ تعالیٰ کے ہاں دوہرے اجر کے مستحق ٹھہرے۔وَمَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَآ اِلَّا الْکٰفِرُوْنَ ”یہاں سے آگے اب دوسرا مضمون شروع ہو رہا ہے جس میں روئے سخن مشرکین مکہ کی طرف ہے۔ ان لوگوں کے لیے یہاں نبی آخر الزماں ﷺ کی نبوت کی ایک اور دلیل بیان کی جا رہی ہے۔ سورت کے اس حصے میں ساتھ ساتھ چلنے والے دو موضوعات کو قبل ازیں رسی کی دو ڈوریوں سے تشبیہہ دی گئی تھی۔ اس ضمن میں یوں سمجھیں کہ اب کچھ دیر کے لیے دوسری ڈوری نمایاں ہورہی ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 47 to 49.

لوگوں میں دو قسم کے افراد ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن کو پہلے سے سچائی کا علم حاصل ہوتا ہے۔ اور دوسرے وہ لوگ جو بظاہر سچائی کا علم نہیں رکھتے۔ تاہم یہ دوسری قسم کے لوگ بھی فطرت کی سطح پر سچائی سے آشنا ہوتے ہیں۔ اول الذکر اگر حامل کتاب ہیں تو ثانی الذکر حامل فطرت۔

اگر لوگ فی الواقع سنجیدہ ہوں تو وہ فوراً حق کو پہچان لیں گے۔ ایک گروہ اگر اس کو کتابِ آسمانی کی سطح پر پہچان لے گا تو دوسرا گروہ کتابِ فطرت کی سطح پر۔ ہر ایک کو سچائی کی بات اپنے دل کی بات نظر آئے گی۔ مگر اکثر حالات میں لوگ طرح طرح کی نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ان کے اندر انکار کا مزاج آجاتاہے۔ وہ سچائی کا انکار ہی کرتے رہتے ہیں، خواہ اس کی پشت پر کتنے ہی قرائن جمع ہوں اور اس کے حق میں کتنے ہی زیادہ دلائل دے دئے جائیں۔


Connections

  • Previous: 29_46
  • Next: 29_48
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes