Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
ٱتۡلُ مَآ أُوحِيَ إِلَيۡكَ مِنَ ٱلۡكِتَٰبِ وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَۖ إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ تَنۡهَىٰ عَنِ ٱلۡفَحۡشَآءِ وَٱلۡمُنكَرِۗ وَلَذِكۡرُ ٱللَّهِ أَكۡبَرُۗ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ مَا تَصۡنَعُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
(اے نبیؐ) تلاوت کرو اس کتاب کی جو تمہاری طرف وحی کے ذریعہ سے بھیجی گئی ہے اور نماز قائم کرو، یقیناً نماز فحش اور بُرے کاموں سے روکتی ہے اور اللہ کا ذکر اس سے بھی زیادہ بڑی چیز ہے اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگ کرتے ہو
English (Sahih International)
Recite, [O Muhammad], what has been revealed to you of the Book and establish prayer. Indeed, prayer prohibits immorality and wrongdoing, and the remembrance of Allah is greater. And Allah knows that which you do
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
اب یہاں سے اس سورت کا آخری حصہ شروع ہو رہا ہے جو تین رکوعات پر مشتمل ہے۔ جیسا کہ آغاز میں بتایا گیا ہے ‘ سورت کے اس حصے میں دو مضامین مشرکین مکہ اور اہل ایمان سے خطاب اس انداز میں متوازی چل رہے ہیں جیسے ایک رسی کی دو لڑیاں آپس میں گندھی ہوئی ہوں۔ قرآن کے اس اسلوب کے بارے میں پہلے بھی کئی بار ذکر ہوچکا ہے کہ مدنی سورتوں میں اہل ایمان سے خطاب کے لیے عام طور پر یٰاَیُّھَا الَّذِینَ اٰمَنُوْا کا صیغہ آیا ہے ‘ جبکہ مکی سورتوں میں اہل ایمان کو براہ راست مخاطب کرنے کے بجائے عموماً رسول اللہ ﷺ کی وساطت سے مخاطب کیا گیا ہے۔ البتہ اس سورت کی آیت 56 میں یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ میں مسلمانوں سے براہ راست خطاب بھی ہے۔ بہر حال آئندہ آیات میں اہل ایمان سے خطاب کے دوران ان لوگوں کو بہت اہم ہدایات دی گئی ہیں جو غلبۂ دین کی جدوجہد میں مصروف ہوں اور اس راستے میں مصائب و مشکلات کا سامنا کر رہے ہوں۔ ان ہدایات کی تعداد دس کے قریب ہے جن میں سے پہلی اور سو ہدایات کے برابر ایک ہدایت یہ ہے :آیت 45 اُتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ ”سورۃ الکہف کی آیت 27 میں بھی یہی ہدایت دی گئی ہے : وَاتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنْ کِتَابِ رَبِّکَ ط ”اور اے نبی ﷺ ! آپ تلاوت کیجیے جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے آپ کے رب کی کتاب میں سے“۔ تقرب الی اللہ کا سب سے بڑا ذریعہ قرآن حکیم ہے۔ چناچہ سورة آل عمران کی آیت 103 میں اہل ایمان کو قرآن سے چمٹ جانے کا حکم بایں الفاظ دیا گیا ہے : وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلاَ تَفَرَّقُوْاص ”اور مضبوطی سے تھام لو اللہ کی رسی کو سب مل کر اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو !“ حضرت ابوسعید خدری رض کی روایت کردہ یہ حدیث اس مضمون کو مزید واضح کرتی ہے : کِتَاب اللّٰہِ ھُوَ حَبْلُ اللّٰہِ الْمَمْدُوْدُ مِنَ السَّمَاءِ اِلَی الْاَرْضِ 1”کتاب اللہ ہی اللہ کی رسی ہے جو آسمان سے زمین تک تنی ہوئی ہے۔“حضور ﷺ کے اس فرمان کے مطابق قرآن ہی ”حبل اللہ“ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے سورة آل عمران کی مذکورہ آیت میں مضبوطی سے پکڑنے کا حکم دیا ہے۔ چناچہ قرآن کی تلاوت کرنے اور اس کی تعلیم و تفہیم میں مشغول رہنے سے بندۂ مؤمن کا اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط ہوتا ہے اور اللہ پر اس کے یقین اور توکل کی کیفیت میں پختگی آتی ہے۔ اسی سے ایک بندۂ مؤمن کو صبر و استقامت کی وہ دولت نصیب ہوتی ہے جو باطل کے مقابلے میں اس کا سب سے بڑا ہتھیار ہے : وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُکَ الاَّ باللّٰہِ النحل : 127 ”اور اے نبی ﷺ ! آپ صبر کیجیے اور آپ کا صبر تو اللہ ہی کے سہارے پر ہے“۔ چناچہ راہ حق کے مسافروں کو یہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلی ہدایت یہی دی گئی ہے کہ قرآن کی تلاوت کو اپنے شبانہ روز کے معمول میں شامل رکھو ! اس سے تمہارا تعلق مع اللہ مضبوط ہوگا اور پھر اسی تعلق کے سہارے حق و باطل کی کشا کش میں تمہیں استقامت نصیب ہوگی۔وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ ط ”اللہ تعالیٰ کے ہاں نماز کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کوہ طور پر پہلی وحی میں ہی اس کی تاکید کردی گئی تھی : وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ طٰہٰ ”اور نماز قائم کرو میرے ذکر کے لیے۔“وَلَذِکْرُ اللّٰہِ اَکْبَرُ ط ”یہ گویا اوپر دی گئی پہلی ہدایت کے بارے میں مزید وضاحت ہے۔ تلاوت قرآن اور نماز دونوں اللہ کے ذکر ہی کے ذرائع ہیں ‘ بلکہ قرآن کو تو خود اللہ تعالیٰ نے سورة الحجر میں ”الذکر“ کا نام دیا ہے : اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ ”یقیناً ہم نے ہی یہ ذکر نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں“۔ جب کہ سورة طٰہٰ کی مذکورہ بالا آیت آیت 14 میں قیام نماز کا مقصد بھی یہی بتایا گیا ہے کہ نماز اللہ کے ذکر کے لیے قائم کرو۔ اس کے علاوہ ادعیہ ماثورہ بھی اللہ کے ذکر کا ذریعہ ہیں۔ حضور ﷺ نے ہمیں ہر عمل اور ہر موقع کی دعا سکھائی ہے۔ مثلاً گھر سے نکلنے کی دعا ‘ گھر میں داخل ہونے کی دعا ‘ بیت الخلاء میں جانے کی دعا ‘ باہر آنے کی دعا ‘ شیشہ دیکھنے کی دعا ‘ کپڑے بدلنے کی دعا۔ یعنی ان دعاؤں کو زندگی کا معمول بنا لینے سے ہر لحظہ ‘ ہر قدم اور ہر موقع پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ آپ کے ذہن اور دل کا رشتہ قائم رہتا ہے۔ فرض نمازوں کے بعد تسبیح فاطمہ 33 بار سبحان اللہ ‘ 33 بار الحمدللہ اور 34 بار اللہ اکبر اور دوسرے اذکار کا بھی احادیث میں ذکر ملتا ہے۔ گویا یہ سب اللہ کے ذکر کی مختلف شکلیں ہیں ‘ لیکن سب سے بڑا اور سب سے اعلیٰ ذکر قرآن مجید کی تلاوت ہے۔وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ ”اے مسلمانو ! یہ یقین اپنے دلوں میں پختہ کرلو کہ اللہ تمہاری ہر حرکت ‘ ہر عمل بلکہ تمہارے خیالات اور تمہاری نیتوں تک سے باخبر ہے۔۔ اس کے بعد دوسری ہدایت :
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
’’نماز برائی سے روکتی ہے‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ کیفیت نماز برائی سے روکتی ہے۔اگر آدمی واقعۃً خدا کے آگے رکوع اور سجدہ کرنے والا ہو تو اس کے اندر ذمہ داری اور تواضع کااحساس پیدا ہوجاتا ہے۔ اور ذمہ داری اور تواضع کے احساس سے جو کردار ابھرتاہے وہ یہی ہوتا ہے کہ آدمی وہ کرتاہے جو اسے کرنا چاہيے اور وہ نہیں کرتا جو اسے نہیں کرنا چاہيے۔
ذکر سے مراد خدا کی یاد ہے۔ جب آدمی کو خدا کی کامل معرفت حاصل ہوتی ہے۔ جب وہ پوری طرح خدا کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اوپر خدا کا تصور چھا جاتا ہے۔ اس کے اندر خدا کی یاد کا چشمہ بہہ پڑتا ہے۔ اس روحانی درجہ کو پہنچ کر آدمی کی زبان سے خدا کےلیے جو اعلیٰ کلمات نکلتے ہیں انھیں کا نام ذکر ہے۔ یہ ذکر بلا شبہ اعلیٰ ترین عبادت ہے۔
تلاوت وحی سے مراد یہاں تبلیغ وحی ہے۔ یعنی لوگوں کو قرآن سنانا اور اس کے ذریعہ سے انھیں خدا کی مرضی سے باخبر کرنا۔ دعوت وتبلیغ کا یہ کام بے حد صبر آزما کام ہے۔ اس میں اپنے مخالفین کا خیر خواہ بننا پڑتا ہے۔ اس میں فریقِ ثانی کی زیادتیوں کو یک طرفہ طورپر نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔ اس میں اپنے مخاطبین کو مدعو کی نظر سے دیکھنا پڑتا ہے خواہ وہ خود داعی کےلیے رقیب اور حریف بنے ہوئے ہوں۔
نماز جس طرح عام زندگی میں ایک مومن کو برائی سے روکتی ہے، اسی طرح وہ داعی کو غیر داعیانہ روش سے بچاتی ہے۔ خدا کا داعی وہی شخص بن سکتاہے جس کے سینہ میں خدا کی یاد سمائی ہوئی ہو، جو اپنے پورے وجود کے ساتھ خداکے آگے جھکنے والا بن گیا ہو۔