Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَآ إِبۡرَٰهِيمَ بِٱلۡبُشۡرَىٰ قَالُوٓاْ إِنَّا مُهۡلِكُوٓاْ أَهۡلِ هَٰذِهِ ٱلۡقَرۡيَةِۖ إِنَّ أَهۡلَهَا كَانُواْ ظَٰلِمِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور جب ہمارے فرستادے ابراہیمؑ کے پاس بشارت لے کر پہنچے تو انہوں نے اُس سے کہا “ہم اِس بستی کے لوگوں کو ہلاک کرنے والے ہیں، اس کے لوگ سخت ظالم ہو چکے ہیں
English (Sahih International)
And when Our messengers came to Abraham with the good tidings, they said, “Indeed, we will destroy the people of that Lot’s city. Indeed, its people have been wrongdoers
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 31 and 32.
آیت 31 وَلَمَّا جَآءَ تْ رُسُلُنَآ اِبْرٰہِیْمَ بالْبُشْرٰیلا ” قوم لوط پر عذاب کی غرض سے جو فرشتے بھیجے گئے تھے وہ پہلے انسانی شکلوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس گئے۔ ان فرشتوں نے پہلے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدائش کی بشارت دی اور پھر اس کے بعد :
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 31 to 35.
قوم لوط کا علاقہ (سدوم، عمورہ) شدید زلزلہ سے تباہ کردیاگیا۔ وہ سر سبز وشاداب وادی جہاں چار ہزار سال پہلے یہ قوم آبادتھی، اب وہاں بحر مردار کا کثیف پانی پھیلا ہوا ہے۔
قرآن کے بیان کے مطابق تباہی کا یہ واقعہ خدا کے فرشتوں کے ذریعہ ظہور میں آیا۔ مگر جغرافیہ اور آثار قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس علاقہ میں جب ارضی عمل سے پہاڑ ابھرے تو اسی کے ساتھ زمین کے ایک حصہ میں ڈھلان (escarpment)پیدا ہوگیا۔ بعد کو اس ڈھلان کے جنوبی حصہ میں سمندر کا پانی بھر گیا۔ اس طرح وہ خشک حصہ پانی کے نیچے آگیا جس کو اب بحر مردار کا کم گہرا جنوبی کنارہ کہاجاتاہے — قرآن میں جو چیز خدائی نشان ہے وہ غیر قرآنی مشاہدہ میں صرف ایک طبیعی واقعہ نظر آتی ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ اس بربادشدہ بستی کے کھنڈر اب بھی سمندر کے پانی کے نیچے پائے جاتے ہیں۔ بلا شبہ اس میں بہت بڑی عبرت ہے۔ مگر یہ عبرت صرف ان لوگوں کےلیے ہے جو باتوں کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کریں۔