Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Prev 28:87


Arabic

وَلَا تَدۡعُ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَۘ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۚ كُلُّ شَيۡءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجۡهَهُۥۚ لَهُ ٱلۡحُكۡمُ وَإِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور اللہ کے ساتھ کسی دُوسرے معبُود کو نہ پکارو اُس کے سوا کوئی معبُود نہیں ہے ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اُس کی ذات کے فرماں روائی اُسی کی ہے اور اُسی کی طرف تم سب پلٹائے جاؤ گے


English (Sahih International)

And do not invoke with Allah another deity. There is no deity except Him. Everything will be destroyed except His Face. His is the judgement, and to Him you will be returned


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 88 وَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ 7 لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَقف ”جیسے کہ پہلے بھی کئی بار اس نکتے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اس نوعیت کے احکام میں اگرچہ صیغہ واحد میں خطاب بظاہر حضور ﷺ سے ہوتا ہے لیکن حقیقت میں آپ ﷺ کی وساطت سے تمام امت مخاطب ہوتی ہے۔کُلُّ شَیْءٍ ہَالِکٌ اِلَّا وَجْہَہٗ ط ”کیا اللہ کا چہرہ بھی ہے ؟ اور اگر اس کے چہرے کو فنا نہیں ہے تو کیا اس کے کوئی اور اعضاء بھی ہیں جن کو فنا ہے ؟ معاذ اللہ ‘ ثم معاذ اللہ !یہ بہت اہم اور حساسّ مسئلہ ہے جس کے بارے میں پہلے بھی کئی بار بتایا جا چکا ہے۔ یہاں پھر ذہن نشین کرلیجیے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ‘ عالم برزخ ‘ عالم غیب اور عالم آخرت جیسے موضوعات کے بارے میں آیات سے جس قدر مفہوم سمجھ میں آجائے اسی پر اکتفا کرنا چاہیے۔ ورنہ ایسے معاملات میں اگر انسان عقل اور منطق کے سہارے ایک ایک کر کے قدم آگے بڑھانے کی کوشش کرے گا تو غلط راستے پر چل نکلے گا۔ حضرت ابوبکرصدیق رض کا قول ہے : العِجزُ عن درک الذّات ادراک کہ اللہ کی ذات کے بارے میں ادراک سے عجز ہی اصل ادراک ہے۔ یعنی جب انسان یہ سمجھ لے کہ میں اس کی ذات کو نہیں سمجھ سکتا تو بس یہی ادراک ہے اور یہی اللہ کی معرفت ہے۔ مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی نے اپنے مکاتیب میں یہ الفاظ بار بار لکھے ہیں کہ ذات باری تعالیٰ وراء الوراء ‘ ثم وراء الوراء ‘ ثم وراء الوراء ہے۔ اس بارے میں کوئی تصور بنانا انسانی ذہن کے لیے ممکن ہی نہیں۔ وَجْہَہٗسے کئی لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات اور ہستی بھی مراد لی ہے ‘ جیسے ہمارے ہاں جب یہ کہا جاتا ہے کہ میں یہ کام فلاں کے منہ کو کر رہا ہوں تو اس اس کا معنی ہوتا ہے کہ اس کی رضا جوئی کے لیے کر رہا ہوں۔ یعنی اس سے شخص کی ذات مراد ہوتی ہے نہ کہ صرف اس کا منہ یا چہرہ۔ بہر حال آیت زیر مطالعہ کے حوالے سے ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ کی ذات کے علاوہ ہرچیز فانی ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

The commentary on this ayah is given with ayah 28:85.


Connections

  • Previous: 28_87
  • Next: (End of Surah)
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes