Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
فَخَسَفۡنَا بِهِۦ وَبِدَارِهِ ٱلۡأَرۡضَ فَمَا كَانَ لَهُۥ مِن فِئَةٖ يَنصُرُونَهُۥ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلۡمُنتَصِرِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
آخر کار ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دَھنسا دیا پھر کوئی اس کے حامیوں کا گروہ نہ تھا جو اللہ کے مقابلہ میں اس کی مدد کو آتا اور نہ وہ خود اپنی مدد آپ کر سکا
English (Sahih International)
And We caused the earth to swallow him and his home. And there was for him no company to aid him other than Allah, nor was he of those who [could] defend themselves
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 81 فَخَسَفْنَا بِہٖ وَبِدَارِہِ الْاَرْضَقف ”چنانچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قارون ”خسف فی الارض“ کے عذاب کا شکار ہوگیا۔وَمَا کَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ ”وہ اپنے لاؤ لشکر اور تمام تر جاہ و جلال کے باوجود اس قابل نہ تھا کہ معاذ اللہ ! اللہ سے اپنی بربادی کا انتقام لے سکتا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 81 and 82.
بائبل کے بیان کے مطابق حضرت موسیٰ نے قارون کے برے اعمال کی وجہ سے اس کے لیے بد دعا فرمائی اور وہ اپنے ساتھیوں اور خزانے سمیت زمین میں دھنسا دیاگیا۔ یہ اللہ کی طرف سے مشاہداتی سطح پر دکھایا گیا کہ خدا پرستی کو چھوڑ کر دولت پرستی اختیار کرنے کا آخری انجام کیا ہوتا ہے۔
دنیا کا رزق دراصل امتحان کا سامان ہے۔یہ ہر آدمی کو خداکے فیصلہ کے تحت کم یازیادہ دیا جاتاہے۔ آدمی کو چاہيے کہ رزق کم ملے تو صبر کرے۔ اور اگر رزق زیادہ ملے تو شکر کرے۔ یہی کسی انسان کےلیے نجات اور کامیابی کا واحد راستہ ہے۔