Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
فَٱلۡتَقَطَهُۥٓ ءَالُ فِرۡعَوۡنَ لِيَكُونَ لَهُمۡ عَدُوّٗا وَحَزَنًاۗ إِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَٰمَٰنَ وَجُنُودَهُمَا كَانُواْ خَٰطِـِٔينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
آ خرکار فرعون کے گھر والوں نے اسے (دریا سے) نکال لیا تاکہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے سببِ رنج بنے، واقعی فرعون اور ہامان اور اس کے لشکر (اپنی تدبیر میں) بڑے غلط کار تھے
English (Sahih International)
And the family of Pharaoh picked him up [out of the river] so that he would become to them an enemy and a [cause of] grief. Indeed, Pharaoh and Haman and their soldiers were deliberate sinners
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 8 فَالْتَقَطَہٗٓ اٰلُ فِرْعَوْنَ ””لُقطہ“ کے معنی ایسی چیز کے ہیں جو کہیں گری پڑی ہو اور کوئی اسے اٹھا لے۔ فقہ کی کتابوں میں ”لُقطہ“ کے بارے میں تفصیلی احکام و مسائل ملتے ہیں۔لِیَکُوْنَ لَہُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا ط ”اس کا یہ مطلب نہیں کہ بچے کو دریا سے نکالتے ہوئے ان کا یہ مقصد تھا یا انہیں معلوم تھا کہ ایسے ہوگا ‘ بلکہ مراد یہ ہے کہ بالآخر اس کا جو نتیجہ نکلا وہ یہی تھا کہ وہ بچہ ان کے لیے تکلیف اور پریشانی کا باعث بن گیا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 28:7.