Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 28:69 Prev 28:67


Arabic

وَرَبُّكَ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ وَيَخۡتَارُۗ مَا كَانَ لَهُمُ ٱلۡخِيَرَةُۚ سُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

تیرا رب پیدا کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے اور (وہ خود ہی اپنے کام کے لیے جسے چاہتا ہے) منتخب کر لیتا ہے، یہ انتخاب اِن لوگوں کے کرنے کا کام نہیں ہے، اللہ پاک ہے اور بہت بالاتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں


English (Sahih International)

And your Lord creates what He wills and chooses; not for them was the choice. Exalted is Allah and high above what they associate with Him


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 68 وَرَبُّکَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَیَخْتَارُ ط ”تمام مخلوق اسی کی ہے ‘ اپنی مخلوق میں سے اس نے جس کو چاہا منتخب کرلیا اور رسول بنا لیا : اَللّٰہُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلآءِکَۃِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ ط الحج : 75 ”اللہ چن لیتا ہے اپنے پیغامبر فرشتوں میں سے اور انسانوں میں سے ”۔ سورة آل عمران میں یہی مضمون اس طرح آیا ہے : اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفآی اٰدَمَ وَنُوْحًا وَّاٰلَ اِبْرٰہِیْمَ وَاٰلَ عِمْرٰنَ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ”یقیناً اللہ نے چن لیا آدم علیہ السلام کو اور نوح علیہ السلام کو اور آل ابراہیم علیہ السلام کو اور آل عمران کو تمام جہان والوں پر۔“مَا کَانَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُط سُبْحٰنَ اللّٰہِ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ”اللہ تعالیٰ کی ذات ان لوگوں کے اوہام اور من گھڑت عقائد سے وراء الوراء ‘ منزہّ اور ارفع ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 68 to 70.

اللہ تعالیٰ انسانوں کو پیدا کرتاہے۔ پھر انسانوں میں سے کسی شخص کو وہ کسی خاص کام کےلیے منتخب کرلیتا ہے۔ یہ انتخاب اس کے ذاتی تقدس کی بناپر نہیں ہوتا۔ بلکہ خدا کے اپنے فیصلہ کے تحت ہوتا ہے۔ اس ليے ایسی شخصیتوں کو مقدس مان کر ان کو خدا کا درجہ دینا سراسر بے بنیاد ہے۔ خدا کی دنیا میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔

آدمی حق کا انکار کرنے کے لیے زبان سے کچھ الفاظ بول دیتاہے۔ مگر اس کے دل میں کچھ اور بات ہوتی ہے۔ وہ ذاتی مصلحتوں کی بنا پر حق کو نہیں مانتا اور الفاظ کے ذریعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ دلیل اور معقولیت کی بنا پر اس کا انکار کر رہا ہے۔ آخرت میں یہ پردہ باقی نہیں رہے گا۔ اس وقت کھلے طور پر معلوم ہوجائے گا کہ اس کے دل میں کچھ اور تھا مگر اپنی بڑائی کو باقی رکھنے کے لیے وہ کچھ دوسرے الفاظ بولتارہا۔


Connections

  • Previous: 28_67
  • Next: 28_69
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes