Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَمَآ أُوتِيتُم مِّن شَيۡءٖ فَمَتَٰعُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَزِينَتُهَاۚ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ خَيۡرٞ وَأَبۡقَىٰٓۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
تم لوگوں کو جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ محض دُنیا کی زندگی کا سامان اور اس کی زینت ہے، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس سے بہتر اور باقی تر ہے کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے؟
English (Sahih International)
And whatever thing you [people] have been given - it is [only for] the enjoyment of worldly life and its adornment. And what is with Allah is better and more lasting; so will you not use reason
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 60 وَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَزِیْنَتُہَا ج ”اس سے یہ نکتہ انسان کو خود بخود سمجھ لینا چاہیے کہ جس طرح دنیا کی یہ زندگی عارضی ہے اسی طرح اس سے متعلقہ ہر قسم کا سازوسامان بھی عارضی ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 60 and 61.
دنیا میں آدمی کے پاس کتنا ہی زیادہ سازوسامان ہو، بہر حال موت کے وقت وہ آدمی کا ساتھ چھوڑ دیتاہے۔ موت کے بعد جو چیز آدمی کے ساتھ جاتی ہے وہ اس کے نیک اعمال ہیں، نہ کہ دنیوی عزت اور مادی سازوسامان۔
ایسی حالت میں عقل مندی یہ ہے کہ آدمی چند دن کی کامیابی کے مقابلہ میں ابدی کامیابی کو ترجیح دے۔ وہ دنیا کی تعمیر کے بجائے آخرت کی تعمیر کی فکر کرے۔