Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 28:59 Prev 28:57


Arabic

وَكَمۡ أَهۡلَكۡنَا مِن قَرۡيَةِۭ بَطِرَتۡ مَعِيشَتَهَاۖ فَتِلۡكَ مَسَٰكِنُهُمۡ لَمۡ تُسۡكَن مِّنۢ بَعۡدِهِمۡ إِلَّا قَلِيلٗاۖ وَكُنَّا نَحۡنُ ٱلۡوَٰرِثِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور کتنی ہی ایسی بستیاں ہم تباہ کر چکے ہیں جن کے لوگ اپنی معیشت پر اترا گئے تھے سو دیکھ لو، وہ ان کے مسکن پڑے ہوئے ہیں جن میں ان کے بعد کم ہی کوئی بسا ہے، آ خرکار ہم ہی وارث ہو کر رہے


English (Sahih International)

And how many a city have We destroyed that was insolent in its [way of] living, and those are their dwellings which have not been inhabited after them except briefly. And it is We who were the inheritors


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 58 وَکَمْ اَہْلَکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍم بَطِرَتْ مَعِیْشَتَہَا ج ”انہیں اپنے معاشی نظام کے استحکام پر بہت گھمنڈ تھا ‘ لیکن ان کی خوشحالی اور ان کی مستحکم معیشت انہیں اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکی۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 58 and 59.

دنیا میں کسی کو مادی استحکام حاصل ہو تو وہ بڑائی کے احساس میںمبتلا ہوجاتا ہے۔حالاں کہ تاریخ مسلسل یہ سبق دے رہی ہے کہ کسی بھی شخص یا قوم کا مادی استحکام مستقل نہیں۔ جب بھی کسی قوم نے حق کو نظر انداز کیا، ساری عظمت کے باوجود وہ ہلاک کردی گئی۔

عرب کے جغرافیہ میںاسلام سے پہلے مختلف قومیں ابھریں۔ مثلاً عاد، ثمود، سبا، مدین، قوم لوط وغیرہ۔ ہر ایک کبر میں مبتلا ہوگئی۔ مگر ہر ایک کا کبر زمانہ نے باطل کر دیا۔ اور بالآخر ان کی حیثیت گزری ہوئی کہانی کے سوا اور کچھ نہ رہی۔ ان قوموں کے کھنڈر چاروں طرح پھیلے ہوئے انسانی عظمت کی نفی کررہے تھے۔ اس کے باوجود پیغمبر اسلام کے زمانہ میں جن لوگوں کو بڑائی حاصل تھی انھوںنے پیغمبر کو اس طرح جھٹلادیا جیسے کہ ماضی کے واقعات میں ان کے حال کے ليے کوئی نصیحت نہیں۔


Connections

  • Previous: 28_57
  • Next: 28_59
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes